جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اگر عدلیہ اور فوج اپنا کام کرے تو سیاست میں میچورٹی آسکتی ہے، مفتاح اسماعیل

datetime 12  مارچ‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (این این آئی) سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 1973 کے بعد بعد 10الیکشن ہوئے اور سب چوری ہوئے، یہاں لسٹیں بنتی ہیں جو کہنے پہ چلتے ہیں اور انہیں پارلیمان بھیجا جاتا ہے اور پارلیمان میں وہ لوگ پہنچے جو حقیقی نمائندے نہیں ہیں،پاکستان میں آج جو صورت حال ہے

وہ زندگی میں کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ہر شخص پریشان ہے اور اسے کوئی امید نظر نہیں آرہی، جو کچھ ہورہا ہے صرف اس حکومت یا پچھلی حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فیصلوں کے تسلسل، آئین شکنی کا نتیجہ ہے،معیشت سیاست کیساتھ جڑی ہوئی ہے سب کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہو گا، اداروں کے سربراہان کی بھی ذمہ داری ہے کہ آئین کی پاسداری کرائیں، ہم سود کی ادائیگیوں کیلئے قرضے لیتے ہیں، صوبوں میں بھی احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر عدلیہ اور فوج اپنا کام کرے تو سیاست میں میچورٹی آسکتی ہے۔ عدلیہ آئین کے حساب سے نہیں اپنی منشا کے حساب سے کام کرتی ہے، کبھی آئین کی پاسداربن جاتی ہے، کبھی ڈاکٹرائن اور کبھی ججز ہم خیال ہو جاتے ہیں، میرے دادا سندھ یا کراچی نہیں پاکستان ہجرت کرکے آئے ہیں اور سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی بحران ہے، ہم سری لنکا نہیں ہیں، ملک ڈیفالٹ ہوا تو یہاں لوگ آگ لگائیں گے، یہاں سب کے پاس مسلح جھتے ہیں، ہمیں ملک سے نفرتیں ختم کرنی ہیں۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے اتوار کو کراچی مقامی آڈیٹوریم میں نیشنل ڈائیلاگ آن ری امیجنگ کے عنوان سے منعقدہ طویل مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ہر شخص سوال کررہا ہے کہ مسائل کا حل کیسے نکلے گا، مجھے معیشت کا تو نہیں معلوم لیکن سیاست کا دیوالیہ نکل چکا ہے،

یہ جو کچھ ہورہا ہے صرف اس حکومت یا پچھلی حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فیصلوں کے تسلسل آئین شکنی کا نتیجہ ہے۔آج کا نوجوان مایوس ہے اور یہ سب سے خطرناک بات ہے، ہم معیشت کو مل کر بہتر کرلیں گے مگر اس کے لیے سب کو آگے بڑھنا اور ساتھ چلنا ہوگا، میں بھی اس نظام کا حصہ رہا 35 سال خود کو بھی ملزم سمجھتا ہوں، اس نہج پر پہنچے ہیں تو صفائی دینے کے بجائے قبول کریں سب اس میں شریک ہوں۔انہوں نے کہا کہ آئین اس سال 50 سال کا ہوجائے گا، کون سی شق ہے جو ہم نے نہ توڑی ہو، جتنا مفصل آئین پاکستان کا ہے کسی ملک کا نہیں، اس کے باوجود ہر وقت اس کی تشریح کرتے رہتے ہیں، ہر آئینی عہدے کا حلف بھی آئین میں تحریر ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…