جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

وزیراعظم شہباز شریف کی گاڑی کے قریب فائرنگ، تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی قائم

datetime 2  مارچ‬‮  2023 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک ،آن لائن)وزیراعظم کی گاڑی کے قریب فائرنگ، تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی قائم کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی درخواست پر معاملے کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کردی ہے ۔ یاد رہے کہ راولپنڈی میں خونی بسنت اور دن بھر شدید ہوائی فائرنگ کے باعث نور خان ائیربیس پر

فلائٹ آپریشن اور وی وی آئی پی مومنٹ بھی متاثر رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی طیارہ وقت پر لاہور کے لیے پرواز نہ کرسکا۔راولپنڈی انتظامیہ و پولیس حکام کی دوڑیں لگی رہیں۔ وزیراعظم ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے لاہور روانہ ہوئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نور خان بیس کے گرد و نواح میں ہوائی فائرنگ اسقدر شدید تھی کہ نامعلوم سمت سے چلائی گئی گولی بیس پر کھڑی وزیر اعظم کی سیکورٹی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی لگی۔واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔ اس حوالے سے سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انکا فون اٹینڈ نہ ہوا تاہم سینئر پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعے کی تصدیق کی۔خونی بسنت و شدید ہوائی فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کے احکامات پر آر پی او راولپنڈی سید خرم علی نے دو ڈی ایس پیز اور ائیرپورٹ سمیت تین تھانوں کے ایس ایچ اوز معطل کردئیے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا لاہور روانہ ہونے والا طیارہ بھی وقت پر روانہ نہ ہوسکا۔ شہبازشریف کی لاہور روانگی کے اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس شام چار بجے کے قریب سیکورٹی انتظامات اوکے رکھنے کے لیے کہاگیا وزیر اعظم نے شام چھ بجے نور خان بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور روانہ ہونا تھا لیکن راولپنڈی میں بسنت اور ہوائی فائرنگ اسقدر شدید تھی کہ نور خان بیس سے فلائیٹ آپریشن کی کلیئرنس نہ ملی۔تقریبا ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے رات سوا نو بجے ہوائی فائرنگ و پنتگ بازی تھمی تو وزیراعظم ہیلی کاپٹر سے نور خان ائیربیس پہنچے جہاں راولپنڈی انتطامیہ اور پولیس کے اعلی حکام کو بھی طلب کیا گیا۔

اس دوران وزیر اعظم کے سیکورٹی و پروٹوکول سٹاف نے راولپنڈی کی صورتحال پر شدید تفتیش کا اظہار کیا۔ بعدازاں وزیر خصوصی طیارے پر لاہور روانہ ہوئے تو راولپنڈی کے انتظامی و پولیس افسران کی جان میں جان آئی۔آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سید خرم علی نے بھی بسنت و شدید ہوائی فائرنگ کا سخت نوٹس لیا اور دو ڈی ایس پیز جن میں ڈی ایس پی نیوٹائون اور ڈی ایس پی سٹی شامل ہیں ۔

سمیت تین تھانوں کے ایس ایچ اوز جن میں ایس ایچ او ائیرپورٹ راجہ مصدق، ایس ایچ او رتہ امرال اور ایس ایچ او صادق آباد کو معطل کردیا۔بسنت و ہوائی فائرنگ و چھتوں سے گرنے و ڈور پھرنے سے بچوں سمیت تین افراد جاں بحق اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوئے اور ایک چہرے پر ڈور پھرنے سے ایک معصوم بچی نور خان بیس کے قریب ایئرپورٹ روڈ پر بھی زخمی ہوئی۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…