منگل‬‮ ، 21 اپریل‬‮ 2026 

رمضان سے قبل ملک میں چائے کی پتی کی قلت کا شدید خدشہ جانتے ہیں 1100 روپے کلو میں ملنے والی پتی کی قیمت کہاں جا پہنچی؟

datetime 12  فروری‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) دسمبر 2022 کے آخر سے جنوری کے اوائل تک پہنچنے والے 250 کے قریب کنٹینرز بندرگاہ پر پھنسنے کی وجہ سے رمضان سے قبل کھلی چائے کی پتی کی قیمت گزشتہ 15 روز میں ایک ہزار ایک سو روپے سے بڑھ کر 16 سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 21 جنوری کے بعد بینکوں نے مالیاتی انسٹرومنٹ فائل کیے تھے اس طرح صرف ان درآمد

کنندگان کو ڈیوٹی ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی جنہوں نے اپنے سپلائرز سے 180 دن کی ادائیگی مؤخر کر دی تھی،پر جو لوگ اپنے سپلائرز سے یہ سہولت حاصل کرنے میں ناکام رہے ان کے کنٹینرز اب بھی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ایک خوردہ فروش نے بتایا کہ ایک معروف برانڈ نے 170 گرام دانیدار اور الائچی پیک کی قیمت 290 روپے سے بڑھا کر 320 اور 350 روپے کر دی ہے، اسی طرح 900 اور 420 گرام والے پیک کی قیمت اب ایک ہزار 350 اور 550 روپے کے مقابلے میں ایک ہزار 480 اور 720 روپے کردی جبکہ دیگر کمپنیاں بھی اس کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہیں۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی چائے سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر ذیشان مقصود نے کہا کہ اس وقت درآمدات بحران کا شکار ہیں جس کی وجہ سے مارچ میں بڑی قلت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بینکوں کا کہنا ہے کہ انہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 180 دن کے مؤخر کانٹریکٹ یا 180 دن کے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) پر دستاویزات جاری کرنے کی ہدایات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے کیونکہ اگر کسی کو یہ کنٹینرز 180 دن کی مؤخر ادائی پر جاری کر دیے جائیں تو وہ درآمدی چائے کی قیمت کا حساب کیسے لگائے گا کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ 6 ماہ بعد انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ کیا ہو گا۔ذیشان مقصود پاکستان ٹی ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے ایگزیکٹو ممبر بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینک یہ کہتے ہوئے ایل سی نہیں کھول رہے ہیں کہ ان کے پاس نئے معاہدوں کے لیے اسٹیٹ بینک سے کوئی ہدایات نہیں ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر پھنسے ہوئے کنسائنمنٹ جاری نہ کیے گئے تو رمضان میں چائے کی قیمت 2500 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے جس کے نتیجے میں فلاحی تنظیمیں قلت اور زیادہ قیمت کی وجہ سے راشن کے تھیلوں میں چائے کی پتی تقسیم کرنے کے قابل نہیں ہوسکتیں۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو کینیا کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر دستخط کرنے چاہئیں، ہم ممباسا میں ہفتہ وار نیلامی سے کینیا کی 90 فیصد چائے درآمد کرتے ہیں جہاں تمام افریقی نڑاد چائے فروخت کی جاتی ہیں۔کینیا افریقہ کا گیٹ وے ہے جو خشکی سے گھرے 7 ممالک کو ملاتا ہے، پاکستان کینیا سے سالانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے اور صرف 25

کروڑ ڈالر کی مختلف اشیا برآمد کرتا ہے۔اگر پی ٹی اے کا کینیا کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے تو پاکستان کی برآمدات چاول، سرجیکل سامان، ٹیکسٹائل، ٹریکٹر، الیکٹرانکس، آئی ٹی، سیمنٹ اور دیگر بہت سی دیگر اشیا کی ترسیل کے ذریعے سالانہ ڈھائی ارب ڈالر تک بڑھ جائیں گی جو کینیا دیگر ممالک سے درآمد کرتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی ٹی اے چائے کی قیمتوں کو کم کرنے میں بھی مدد کرے گا اور باہمی دلچسپی کے لیے دیگر کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان باہمی بات چیت کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

مالی سال 2023 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران میں ملک کی چائے کی درآمدات ایک لاکھ 28 ہزار 57 ٹن (30 کروڑ ڈالر) رہی جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں ایک لاکھ 29 ہزار 693 ٹن (30 کروڑ ڈالر) تھی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کی ابتدائی ششماہی میں اوسط فی ٹن قیمت 2 ہزار 318 ڈالر کے مقابلے میں 2 ہزار 489 ڈالر رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…