جمعہ‬‮ ، 24 اپریل‬‮ 2026 

وزیر اعلیٰ کے پاس 24 گھنٹے ہیں، 186 ارکان کی سپورٹ ہونی چاہیے،لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم آگیا

datetime 11  جنوری‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )لاہور ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل بتا دیں کہ اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے کتنا مناسب وقت درکار ہے، ہم ایک تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے

ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی، وفاقی وزیر داخہ رانا ثنااللہ، مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود اور طاہر خلیل سندھو بھی لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔دوران سماعت جسٹس عابد عزیز نے استفسار کیا کہ کیا معاملہ حل نہیں ہوا؟ جس پر چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تمام مسائل عدالت میں حل ہوں گے۔عدالت نے پوچھا کہ اب کیا پوزیشن ہے؟ جس پر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے انہیں کافی وقت دیا، ان کا نکتہ یہی تھا کہ مناسب وقت نہیں دیا گیا، ان کے لیے عدالت نے اعتماد کا ووٹ لینے کا راستہ بھی کھلا رکھا تھا۔جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ گورنر، وزیراعلیٰ کو اعتماد کے ووٹ کا کہہ تو سکتا ہے، آخر میں اراکین نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کون وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے، بیرسٹر علی ظفر بتا دیں اعتماد کے ووٹ کے لیے کتنا وقت مناسب ہو سکتا ہے، ہم ایک تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ کے پاس پورا موقع تھا اتنے دن میں اعتماد کا ووٹ لے لیتے، جس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا میں اس قانونی نکتے پر دلائل دوں گا۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پرویز الٰہی تو ووٹ لے کر ہی وزیر اعلی بنے ہیں جس پر جسٹس عاصم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پاس 24 گھنٹے ہیں، ان کے پاس 186 ارکان کی سپورٹ ہونی چاہیے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت می ں مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ کا گورنر کے کہنے پر ووٹ لینا ضروری ہے، یہ گورنر کا اختیار ہے وہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے۔جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ کوئی فریق بھی نمبرز کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں،

سب سوچ رہے ہیں کہ پہلے جو کرے گا وہ بھرے گا۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا اب تو معاملہ مناسب وقت سے باہر آچکا ہے، جس پر چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا یہ تحریری طور پر تو کچھ نہیں لائے۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اعتماد کاووٹ لینےسے وزیراعلیٰ کو تو کسی نے نہیں روکا تھا، تحریرکی کیا ضرورت ہے؟ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے ٹھیک ہے، اگر اتفاق رائے نہیں ہے تو ہم اس کا میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔

یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کی جانب سے ہٹائے جانے کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا جس پر لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے 23 دسمبر کو نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے 11 جنوری تک کیس کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(چوتھا حصہ)


لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…