باجوہ نے کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران کی مدد سے عمران خان کو بچانے کی کوششیں کیں مگر شہباز شریف اور آصف زرداری کیوں خاموش رہے ؟ حامد میر کے اہم انکشافات

20  دسمبر‬‮  2022

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی حامد میر اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ عمران خان کو صرف نئے انتخابات کی تاریخ نہیں چاہئے بلکہ وہ نااہلی اور گرفتاری سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ گزشتہ سال سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ان کے تعلقات میں سرد

مہری ضرور آئی تھی لیکن باجوہ صاحب نے مارچ میں آنے والی تحریک عدم اعتماد سے انہیں بچانے کی سرتوڑ کوششیں کیں جن کی گواہی پرویز الٰہی نے بھی دی۔بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم والے ابھی تک خاموش ہیں کیونکہ انہوں نے باجوہ کی طرف سے ملنے والے بالواسطہ پیغامات کو نظر انداز کردیا اور آئی ایس آئی کی طرف دیکھتے رہے لیکن آئی ایس آئی نے بطور ادارہ کسی کو کوئی اشارہ کرنے سےگریز کیا۔باجوہ نے ذاتی حیثیت سے کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران کی مدد سے عمران خان کو بچانے کی جو کوششیں کیں ان کے ناقابل تردید ثبوت اور گواہ موجود ہیں لیکن شہباز شریف اور آصف علی زرداری اس معاملے پر خاموش ہیں کیونکہ وہ یہ بحث شروع نہیں کرانا چاہتے کہ کیا باجوہ اپنے ہی ادارے کی پالیسی کی خلاف ورزی کر رہے تھے؟ وہ یہ تاثر بھی نہیں دینا چاہتے کہ عمران خان کو فوج کے علاوہ عدلیہ کی اہم شخصیات کی حمایت بھی حاصل تھی۔عمران خان کی طرف سے بار بار جنرل باجوہ پر الزامات لگانے کا ایک مقصد فوج کی نئی قیادت کو بلیک میل کرنا ہے۔ وہ نام تو باجوہ کا لیتے ہیں لیکن سنا کسی اور کو رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…