جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

عالمی انتباہ کے باوجود ایران نے دوسرے احتجاجی کارکن کو پھانسی دیدی

datetime 13  دسمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تہران(این این آئی)ایرانی حکومت نے بین الاقوامی انتباہات کے باوجود دوسرے احتجاجی کارکن کو بھی پھانسی دیدی۔ تقریبا تین ماہ سے جاری احتجاجی تحریک میں شریک پہلے احتجاجی کارکن محسن شکاری کو 8 دسمبر کو پھانسی دی گئی تھی۔محسن شکاری کی سزائے موت پر عملدرآمد کے بعد بین الاقوامی برادری کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور

ایران کو ایسی سزاں پر خبردار کیا گیا تھا۔ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ نے کہا کہ مجید رضا رہناورد کو مشہد شہر میں اس وقت پھانسی دی گئی جب ان پر سکیورٹی فورسز کے دو ارکان کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ مجید پرہراساں کرنیکا الزام لگایا گیا تھا۔ایجنسی نے کہا کہ مجید کے خلاف سزائے موت 29 نومبر کو اس وقت جاری کی گئی جب اس نے چاقو سے سکیورٹی فورسز کے دو ارکان کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا۔مجید رضا رہناورد کو مشہد شہر میں سرعام پھانسی دی گئی۔ قتل کے الزام کے بعد ایک ماہ سے بھی کم وقت میں مجید کو پھانسی دیدی گئی جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ایرانی حکومت مظاہروں میں گرفتار افراد کے خلاف جاری موت کی سزاں پر عملدرآمد میں تیزی لا رہی ہے۔ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے گروپ کی خبر رساں ایجنسی ھارانانے خبر دی تھی کہ مجید رہناورد کو اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا گیا اور پسند کے وکیل کی مدد کے بغیر ہی اسے سزا سنا دی گئی ۔

ایرانی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس وقت ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار افراد میں سے سے سزائے موت پانے والوں کی تعداد کم از کم 11 تک پہنچ گئی ہے۔قبل ازیں ایران میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے جاوید رحمان نے مظاہرین پر بڑھتے ہوئے جبر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے مظاہرین کے خلاف سزائے موت کی مہم شروع کردی ۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ مظاہروں کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں کو پھانسی کا خطرہ ہے۔ احتجاجی تحریک کے پہلے شریک کو پھانسی دینے کے بعد بین الاقوامی رد عمل اور شدید مذمت نے تہران حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔پہلے احتجاجی کارکن محسن شکاری کی سزائے موت پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ اس کے مقدمے کا طریقہ کار دھوکہ دہی پر مبنی تھا اور اس فیصلہ میں بلاجواز جلد بازی کی گئی تھی۔نیو یارک میں ہیڈ آفس رکھنے والی تنظیم سینٹر فار ہیومن رائٹس کے ایران میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہادی قائمی نے کہا کہ جب تک غیر ملکی حکومتیں ایران پر سفارتی اور اقتصادی دبا کو نمایاں طور پر نہیں بڑھاتی دنیا اس قتل عام کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتی رہے گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…