جب تحریک عدم اعتماد پیش ہو گئی تو جنرل باجوہ نے پی ڈی ایم میں شامل 13 جماعتوں کے رہنماؤں کو بلایا اور کہا کہ تحریک واپس لے لیں مگر آگے سے انہیں کیا جواب ملا؟حامد میر کے تہلکہ خیز انکشافات

  ہفتہ‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2022  |  16:51

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ کو آخر تک یقین رہا کہ تحریک عدم اعتماد نہیں آئے گی اور انہوں نے عمران خان کو بھی یہی بتایا تھا۔ جنرل باجوہ کو تحریک عدم اعتماد کے بارے میں گمراہ کیا گیا تھا۔ جنرل باجوہ جن چینل کے ذریعے پی ڈی ایم کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اس چینل کو پی ڈی ایم والے غلط بتا رہے

تھے کہ تحریک عدم اعتماد نہیں لا رہے کیونکہ ہمارے پاس بندے ہی پورے نہیں ہیں۔ اس وقت کی اپوزیشن اور موجودہ حکومتی اتحاد میں شامل سیاست دان جان بوجھ کر جنرل باجوہ کو گمراہ کر رہے تھے اور اسی وجہ سے باجوہ صاحب آخر تک غلط فہمی میں رہے۔حامد میر نے مزید کہا  کہ جس دن شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرکے یہ فیصلہ سنایا کہ ہم تحریک عدم اعتماد لے کر آ رہے ہیں اس کے بعد افراتفری پیدا ہو گئی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اہم اداروں کے بہت سارے لوگوں کے تبادلے کر دیے گئے کہ تم نے ہمیں اس بارے میں بتایا کیوں نہیں۔ پی ڈی ایم کا یہ بہت خفیہ اور کامیاب آپریشن تھا۔تحریک عدم اعتماد جب پیش ہو گئی تو جنرل باجوہ کو یہ مشکل پیش آئی کہ تب تک فوج تین کور کمانڈرز کانفرنسوں میں بحث مباحثے کے بعد اصولی فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔پرویز الہیٰ نے جس طرح شہباز شریف کے ساتھ کمٹ منٹ کر لی تھی تو یہ بھی جنرل باجوہ کے لیے بہت بڑا سرپرائز تھا۔

انہیں لگ رہا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف پرویز الہیٰ کو کبھی قبول نہیں کریں گے مگر ان کا اندازہ یہاں بھی غلط ہو گیا۔ پھر انہوں نے پرویز الہیٰ کو مونس الہیٰ کے ذریعے پیغام بھیج کر کہا کہ عمران خان کا ساتھ دیں۔ جب تحریک عدم اعتماد پیش ہو گئی تو جنرل باجوہ نے پی ڈی ایم میں شامل 13 جماعتوں کے رہنماؤں کو ملاقات کے لیے بلایا اور ان سے کہا کہ تحریک واپس لے لیں مگر سبھی نے انکار کر دیا۔ اس ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم بھی ان کے ہمراہ تھے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بشریٰ بی بی سے شادی

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎