کشیدگی بڑھ گئی، ایران نے امریکہ کو ورلڈ کپ سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا

  پیر‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2022  |  23:33

تہران(این این آئی)ایرانی فٹ بال ایسوسی ایشن نے احتجاج کیاہے کہ اس کے امریکی ہم منصب نے دو روایتی حریفوں کے درمیان اگلے میچ سے قبل سوشل میڈیا پر ایران کے پرچم کو تبدیل کر دیا ہے، اس بنا پر ایسوسی ایشن نے امریکہ کو ورلڈ کپ سے نکالنے کا مطالبہ کردیا۔دونوں ملکوں میں سیاسی حدت کے اضافے کے دوران

ایرانی قومی ٹیم منگل 29 نومبر کو گروپ ٹو میں اپنے آخری میچ میں امریکی فٹ بال ٹیم کے مقابل ہوگی۔ قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے اگلے مرحلہ میں جانے کیلئے ایرانی ٹیم کی امریکہ پر فتح اہم کردار ادا کرے گی۔یو ایس سوکر فیڈریشن کے انسٹاگرام پیج نے ایرانی پرچم سے خدا کی علامت کو ہٹا دیا ہے جو ایک غیر پیشہ ورانہ عمل ہے۔ ایرانی فٹ بال ایسوسی ایشن نے فیفا کو ایک ای میل بھیجی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکی فٹ بال ایسوسی ایشن کو اس عمل پر سنگین وارننگ جاری کی جائے۔ایران کا جھنڈا سرخ، سفید اور سبز رنگ پر مشتمل ہے جس کے درمیان میں سٹائلائزڈ رسم الخط میں لفظ “اللہ” لکھا گیا ہے۔ امریکی فیڈریشن کے انسٹاگرام اور ٹویٹر پیجز پر دو پوسٹس میں پرچم سے یہ لفظ ہٹا دیا گیا ہے۔امریکن فیڈریشن کے ایک میڈیا عہدیدار نے کہا کہ ایران میں خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہ ایک تصویر تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیڈریشن کی ویب سائٹ پر پرچم کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔فیڈریشن کے ترجمان نے بعد میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس پوسٹ کو ہٹا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ صحیح جھنڈا دکھایا گیا ہے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب بھی ایران کی خواتین کی حمایت کرتے ہیں،منقطع کر لیے تھے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

اب تو آنکھیں کھول لیں

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎