لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

  ہفتہ‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2022  |  14:29

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی)کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا ہے۔جنگ کے مطابق کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نےبھی  قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل یہ خبر آئی تھی کہ چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کے خاندانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے ان کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی تصدیق کی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کو اگلے سال اپریل میں ریٹائر ہونا تھا اور 27 نومبر کے بعد سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست میں لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کا دوسرا نمبر ہوتا۔انہوں نے 1987 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے 41 ویں بلوچ رجمنٹ میں کمیشنڈ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے، وہ راولپنڈی کے کور کمانڈر بھی رہے ہیں اور ابھی چیف آف جنرل اسٹاف ہیں۔وہ 12 ویں ڈویژن مری اور انفینٹری اسکول کوئٹہ کے کمانڈر بھی رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قوم اور ادارہ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کرے گا، انہوں نے لائن آف کنٹرول، وزیرستان، بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں خدمات سرانجام دیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے سینیئر لفٹیننٹ جنرلز کی فہرست میں پہلے نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف تعینات کیا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو چیئرمین جوانئٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعیناتی کا اطلاق 27 نومبر سے ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعیناتی کا اطلاق 27 نومبر سے ہوگا جبکہ سید عاصم منیر کی جنرل کے عہدے پر ترقی اور بطور چیف آف آرمی اسٹاف تعیناتی کا اطلاق 29 نومبر سے ہوگا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بشریٰ بی بی سے شادی

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎