منگل‬‮ ، 13 اکتوبر‬‮ 2026 

ایف آئی آر نامعلوم افراد پر کرنے سے روکا ہے، آئی جی پنجاب کے عدالت میں بیان پر مونس الٰہی کا ردعمل

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

لاہور (مانیٹرنگ،این این آئی) آئی جی پنجاب نے کہا کہ مجھے عمران خان پر حملہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے پنجاب حکومت نے منع کر رکھا ہے، عمران افضل راجہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ نے 24 گھنٹے میں عمران خان پر حملہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ورنہ سخت کارروائی ہو گی،

مزید لکھا کہ اب یہاں چوہدری پرویز الہی اور مونس الہی سے سوالات اٹھتے ہیں، یہ کیا ہے جناب؟ جس پر مونس الٰہی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پرچہ نامعلوم افراد پر کرنے سے روکا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب پولیس کو سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے وئے عمران خان کے وکیل کوایک ہفتے تک جواب جمع کرانے کی مہلت دیدی۔ پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی 5 رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی جس میں سابق وزیر اعظم کے وکیل سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے موکل پر حملہ ہوا ہے جس کا مقدمہ درج نہیں ہو سکا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جمعرات کو تکلیف دہ مسئلہ ہوا، مزید وقت دینے کی استدعا درست لگی ہے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان کا جواب تیار ہے، عدالت کہے تو جواب جمع کروا سکتا ہوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 90 گھنٹے گزر گئے تاہم مقدمہ درج نہیں ہوا، اس کے بغیر تفتیش کیسے ہوگی؟ ایف آئی آر کے بغیر تو شواہد تبدیل ہوسکتے ہیں۔اس دوران عدالت کی جانب سے طلبی پر لاہور رجسٹری سے آئی جی پولیس فیصل شاہکار ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آئی جی پنجاب فیصل شاہکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ہوا ہے،

آپ بتائیں اب تک ایف آئی آر کیوں داخل نہیں ہوئی، ہمیں وقت بتائیں کب تک ایف آئی آر درج کریں گے؟آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بات کی، انہوں نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی واقعہ میں شہادت ہوئی ہے، اس واقعہ کی بھی لواحقین کی شکایت پر ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مقدمہ درج نہ ہونے کی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے،

قانون کے مطابق کام کریں، عدالت آپ کے ساتھ ہے، آپ افسران سے تفتیش کروائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی صاحب! جب تک آپ عہدے پر ہیں کوئی آپ کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا، آپ کے کام میں کسی نے مداخلت کی تو عدالت اس کے کام میں مداخلت کرے گی۔انہوں نے آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کو 24 گھنٹوں میں حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقدمہ درج نہ ہوا ازخود نوٹس لیں گے۔بعد ازاں عدالت نے سلمان اکرم راجا کو ایک ہفتے تک جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…