جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

30 سالہ خاتون نے شادی کیلئے 17 سالہ لڑکا اغواء کرلیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بغداد(این این آئی)عراق میں نوجوان کے اغوا کا ایسا انوکھا واقعہ پیش آیا ہے جو تاوان کے لیے نہیں بلکہ بیاہ رچانے کے لیے کیا گیا ہے، ایک خاتون نے شادی کیلیے امیر لڑکا اغوا کرلیا،میڈیارپورٹس کے مطابق عراق میں ایک خاتون دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنے سے کہیں کم عمر امیر لڑکے کو شادی کے لیے اغوا کرلیا ہے۔

اور یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق 30 سالہ عراقی خاتون کا دل بھی آیا تو اپنے سے کہیں کم عمر 17 سالہ نوجوان پر اور پھر اس سے شادی کیلیے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اسے اغوا کرلیا۔ذرائع نے بتایا کہ یمنی لڑکا اپنے خاندان کے ساتھ تعلیم کے لیے اردن میں مقیم تھا، عراقی خاتون نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس سے دوستی کی اور دوستی کے بعد اسے بغداد لائی۔پولیس نے اطلاع ملنے کے بعد اغوا کار خاتون اور مغوی لڑکے کو بازیاب کرالیا ہے، محکمہ انسداد انسانی سمگلنگ کے اہلکاروں نے بغداد سے خاتون کو حراست میں لیا تاہم اس کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔پولیس افسر کے مطابق لڑکے کا تعلق امیر خاندان سے ہے اور خاتون نے اسے اغوا کرکے شادی کیلیے مجبور کرنا چاہتی تھی۔اس انوکھے اغوا کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور صارفین اغوا برائے شادی کے اس منفرد واقعے پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ عراق میں 2003 کے بعد سے انسانی اسمگلنگ بڑھ گئی ہے، گداگری کے لیے بچوں اور انسانی اعضا کے کاروبار کے لیے خواتین کے اغوا کے واقعات تسلسل سے رونما ہونے کے بعد عراقی پارلیمنٹ نے انسانی اسمگلنگ کے جرائم کے سدباب کے لیے 2012 میں انسداد انسانی اسمگلنگ قانون جاری کیا تھا۔اس قانون کے تحت طاقت کے بل پر کسی شخص کو اس کی رہائش گاہ سے اٹھانا،

اسے رہائش فراہم کرنا یا مخصوص نظریات اور سرگرمیوں پر آمادہ کرنے کے لیے اپنے قبضے میں کرنا، دھوکا دہی یا اثر و نفوذ کے استعمال یا اغوا کے ذریعے اس قسم کی حرکت کرنا، رقم یا لالچ دے کر اغوا کرنا، فحاشی، گداگری، اعضا کے کاروبار وغیرہ کسی بھی مقصد کے لیے ایسا کرنا قانونا جرم ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…