سعودی بچی کے قتل میں ملوث غیر ملکی ملازمہ کا سر قلم کر دیا گیا

  بدھ‬‮ 5 اکتوبر‬‮ 2022  |  23:31

ریاض (این این آئی)سعودی بچی کے قتل میں ملوث گھریلو ملازمہ کی سزائے پر اتوار کو ریاض میں عملدرامد کر دیا گیا۔ چار سال قبل سعودی بچی نوال القرنی کے قتل کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ عدالت نے قتل کا الزام ثابت ہو جانے پر گھریلو ملازمہ فاطمہ محمد اصفا کو

موت کی سزا سنائی تھی۔ وزارت داخلہ نے بیان میں کہا ہے کہ’سعودی بچی کے قتل میں ملوث ایتھوپین ملازمہ کو سزائے موت دی گئی ہے۔سکیورٹی اہلکاروں نے ملزمہ کو گرفتار کرکے تفتیش کی جس کے بعد مقدمہ فوجداری کی عدالت میں بھیجا گیا تھا۔اپیل کورٹ اور سپریم کورٹ نے فیصلے کی توثیق کی تھی۔العربیہ نیٹ کے مطابق گھریلو ملازمہ نے نوال القرنی کو سوتے میں چھری کے وار کرکے ہلاک کردیا تھا۔ اس کے بھائی کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی تھی جس کے جسم پر کئی زخم آئے تھے۔نوال القرنی کی والدہ نے سزائے موت پر عمل درآمد کی خبر سن کر کہا کہ ’مجھے میرے صبر کا بدلہ مل گیا۔ اپنی بیٹی نوال کو زندگی بھر یاد کرتی رہوں گی۔ اس کا غم نہیں بھلا سکی۔نوال کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’انصاف کے لیے ایک، ایک پل انتظار کر رہی تھی۔ چار سال تین ماہ قبل میری بیٹی کو قتل کیا گیا تھا۔ آج مجھے سکون ملا ہے۔ ’اپنی بیٹی کی موت کے بعد بڑامشکل وقت گزارا۔ اب اپنے بیٹے کی نگہداشت کے لیے زندگی وقف کر رکھی ہے۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎