نواز شریف کی تاحیات نااہلی ختم ہوگی ، عمران نااہل ہوں گے یا نہیں ، تہلکہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 5 اکتوبر‬‮ 2022  |  15:49

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ تاحیات نااہلی پر سپریم کورٹ، نواز شریف اور تحریک انصاف ایک پیج پر آگئے ہیں، تینوں کے ایک پیج پر آنے سے لیول پلیئنگ فیلڈ کا راستہ ہموار ہوگا، اس سے نواز شریف کی تاحیات نااہلی ختم ہوگی

اور عمران خان نااہل نہیں ہوں گے۔پروگرام میں موجود ریما عمر نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے 62ون ایف سے متعلق حالیہ ریمارکس بہت اہم ہیں، ججوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی جو تشریح کریں گے اس پر قائم رہیں گے، بدقسمتی سے موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک کیس میں کہا کہ ماضی میں غلطی سے کوئی تشریح ہوجاتی ہے تو اسے درست کرلینا چاہئے، 62ون ایف میں کہیں نہیں لکھا کہ نااہلی تاحیات ہوگی، 2018ء میں سپریم کورٹ کے پاس یہ کیس گیا تو جسٹس عمر عطا بندیال نے تاحیات نااہلی کا فیصلہ دیا، یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا کمزور ترین فیصلہ ہے، عدالتی ریمارکس سوچ سمجھ کردینے چاہئیں، فیصل واوڈا کا کیس مختلف چیز کے بارے میں ہے اس میں ٹیکنیکل بنیادوں پر فیصلہ ہوگا۔ریما عمر نے کہا کہ بدلتے وقت کے ساتھ ججوں کے نکتہ نظر تبدیل ہونا ہمارے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہونا چاہئے، عدلیہ کی جانب سے قوانین کی تشریح میں تسلسل ہونا چاہئے، قوانین کی تشریح میں تسلسل نہیں رہے گا تو یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ طاقتور کیلئے قانون مختلف ہے، نواز شریف کو چار سال نااہل رکھا گیا اب ان کی نااہلی ختم ہوجائے تو ان گزرے سالوں کا حساب کون دے گا، نواز شریف کی نااہلی ختم کردی جائے تب بھی اسے لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں کہا جاسکتا۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎