آڈیو  لیک پر عمران خان کا ردعمل آگیا

  بدھ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2022  |  15:40

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کیساتھ مبینہ امریکی سائفر کے حوالے سے آڈیو لیک پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سائفر پر تو ابھی میں نے کھیلا ہی نہیں، اب یہ ایکسپوز کریں گے تو کھیلیں گے، شہباز شریف وغیرہ نے ہی آڈیو لیک کی ہے، اچھا ہے سائفر ہی لیک ہو جائے ،کون سا مائنڈ ہے جو ان کو

واپس مسلط کر رہا ہے، ملک کے خلاف اس سے بڑی غداری نہیں ہوسکتی،چیف الیکشن کمشنر کو عدالت میں لے کر جائیں گے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف وغیرہ نے ہی آڈیو لیک کی ہے، اچھا ہے سائفر ہی لیک ہو جائے تاکہ سب کو پتا چلے گا کہ کتنی بڑی سازش ہوئی ہے۔صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ آڈیو لیک میں مبینہ طور پر آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے صرف کھیلنا ہے اس کا کس طرح دفاع کریں گے، اس پر عمران خان نے کہا کہ اس پر تو میں نے ابھی کھیلا ہی نہیں، اب یہ ایکسپوز کریں گے تو کھیلیں گے۔ایک اور صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ خان صاحب مذاکرات ہوں گے یا دھرنے کی کال دیں گے، اس پر عمران خان نے کہا کہ تمہیں ابھی انتظار کرنا پڑے گا۔بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں تو بہت خوش ہوا ہوں کہ شہباز شریف کے دفتر سے پتا چلا ہے کہ اعظم خان اور عمران خان کی آڈیو ٹیپ آگئی، یہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ہے۔

میں سوچ رہا ہوں کہ اس پر شہباز شریف کو عدالت لے کرجاؤں یا 16 ارب کے کیسز پر لے کر جاؤں، جس سے منسلک 4 آدمی تو مر چکے ہیں، مقصود چپڑاسی مر گیا ہے جبکہ 3 اور گواہوں کو مار دیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ چلو اچھا ہے کہ تم سائفر کو لے آئے ہو، اب سائفر کو پبلک کردو اور قوم کے سامنے لے آؤ کہ ایک امریکی انڈر سکرٹری ڈونلڈ لو کیا زبان استعمال کررہا ہے اور پاکستان کے سفارتکار کو کس تکبر سے کہہ رہا ہے کہ اگر تم نے اپنے وزیراعظم کو عدم اعتماد کی تحریک میں نہ ہٹایا تو پاکستان کو نتائج بھگتنے ہوں گے اور اگر ہٹا دو گے تو معاف کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ سائفر کو پبلک کے اندر لے آئیں، جو باتیں سفارتکار اسد مجید کے ساتھ ڈونلد لو نے کی تھیں، وہ ساری قوم کو پتا چلنا چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ جتنا گھٹیا چیف الیکشن کمشنر ہے، اس سے زیادہ گھٹیا آدمی میں نے نہیں دیکھا، آپ یہ سوچیں کہ یہ بھگوڑے، جھوٹے، کرپٹ اور سزا یافتہ سے حکم لے رہا ہے کہ جناب کس دن ہمارے استعفے منظور کرنے ہیں۔

یہ ثابت ہوگیا کہ یہ شریف خاندان کا نوکر ہے، اس میں اتنی تو شرم نہیں ہے کہ یہ خود ہی مستعفی ہو جائے ہم اس کو عدالت میں لے کر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی سلامتی کی پالیسی بنائی تھی اس میں خارجہ پالیسی اور معیشت کو جوڑ دیا تھا، صرف فوج آپ کو نہیں بچا سکتی، جب تک معیشت مستحکم نہیں ہوتی آزاد فیصلے نہیں کرسکتے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ملک کے محافظوں کو نظر نہیں آرہا کہ ملک کے ساتھ کیا ہورہا ہے، اداروں پر غیر ضروری تنقید نہیں کرنا چاہتا، کیا سب کو نظر نہیں آرہا ہے کہ ملک کے ساتھ کیا ہورہا ہے، جب سے یہ دو خاندان آئے ہیں یہ لوگ ارب پتی بن گئے اور ملک کو مقروض کر دیا، کون سا مائنڈ ہے جو ان لوگوں کو واپس ہم پر مسلط کر رہا ہے۔

یہ جو بھی کررہا ہے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہیں، جو بھی یہ کررہے ہیں ملک کے خلاف اس سے بڑی غداری نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو اتنی شرم نہیں آتی، کہتی ہے کہ میرے داماد کو بھارت سے مشینری منگوا دو، اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے حکومت کے خرچے سے 60 سے 70 کروڑ روپے کا گرڈ اسٹیشن بنا دو، یہ خرچہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو کرنا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے خوددار خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی، اس پر امریکیوں نے بار بار سگنل دیے کہ پاکستان بدل گیا ہے، جب آپ قومی مفاد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ آپ کی عزت کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کی ایک شخصیت اور اینکر نے مجھ سے بات کی اور کہا کہ لوگ آپ سے ناراض ہیں، میں نے کہا کہ تمہارے ملک میں مہنگائی کی مصیبت پڑ گئی ہے۔

میں نے کہا تھا کہ آپ کشمیر میں ہماری مدد کرنے آتے ہیں؟ جہاں پر بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے اور ایک لاکھ سے زائد کشمیری جاں بحق ہو چکے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہم آپ کی جنگ میں ساتھ دیں۔سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں رجیم چینج سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایجنسیز ہمیں پاکستان کا دشمن سمجھنا شروع ہو گئیں۔

پاکستان میں جن صحافیوں کی ساکھ ہے اور جن کو لوگ سنتے ہیں، ان لوگوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کررہے ہیں کہ یہاں کوئی بھارتی ایجنٹس آ گئے، پیسے لینے والے اور ضمیر بیچنے والے میڈیا ہاؤسز کو دیکھ لیں، ایک قبضہ گروپ نے ٹی وی چینل لے لیا۔انہوںنے کہاکہ ان دو نمبر لفافوں کو کوئی بھی نہیں دیکھتا کیونکہ قوم فیصلہ کر بیٹھی ہے لیکن ایجنسیز چوروں کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی تاکہ اسکول کے بچوں کے لیے نصاب بنایا جاسکے اور ہم اپنے بچوں کو بتائیں کیونکہ موبائل فون کی وجہ سے آج ہمارے بچوں کو مشکلات اور کنفویڑن کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس طرح کا مواد موبائل فون پر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اپنے بچوں کو نبی ؐ کی سیرت سے مضبوط نہیں کریں گے۔

یہ نوجوانوں کے لیے بھی مشکل وقت ہے، اس لیے اتھارٹی بنائی تھی کہ یونیورسٹیز میں مباحثہ ہوگا، اسکالر اس کا مطالعہ کریں گے، اس حکومت نے وہ اتھارٹی بند کردی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہاکہ انصاف انسانوں کو حقوق دیتا ہے اور انسانی حقوق انسان کو آزاد کر دیتے ہیں، آزاد قوم اپنے حقوق کا تحفظ کرتی ہے، اور آزاد قوم میں ہی آزاد ذہن آتے ہیں، اور دنیا میں جو جدت آتی ہے اور ایجادات ہوتی ہیں۔

یہ آزاد ذہن کے لوگ ہی کرتے ہیں، غلام نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ معیشت خارجہ پالیسی کے ساتھ جڑی ہے، ہم نے بنیادی غلطی کی تھی، جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو پاکستان کے برے حالات تھے کیونکہ تمام تر صنعتیں بھارت میں رہ گئی تھیں، سرد جنگ میں دو بلاکس تھے، ہم امریکا کے ساؤتھ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو) اور سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) میں چلے گئے۔

چلیں تسلیم کرلیتے ہیں کہ ہم اس لیے گئے کہ ضرورت تھی، اور ہمارا 7 گنا بڑا پڑوسی ملک تھا اور ہمیں اپنی سالمیت کا بھی خطرہ تھا۔عمران خان نے کہاکہ 1970 کی دہائی میں قومیانے کی پالیسی آگئی جس کی وجہ سے صنعتکاری رک گئی، ہمارا ملک اس وقت اوپر جا رہا تھا، نیشنلائزیشن کی وجہ پیداوار دولت ختم کر دی، جب قوم اپنے پیروں پر نہیں کھڑی ہوتی تو تھوڑے وقت بعد مقروض ہو کر غلام بن جائے گی۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎