جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے وفاقی وزیر خرم دستگیر نے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 11  ستمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گوجرانوالہ ( آن لائن ) وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے ایک ماہ میں بجلی سستی ہونے کی نوید سنا دی اور کہا ہے کہ اکتوبر سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بہت کم رہ جائے گی، ایک ماہ بعد بجلی کی قیمت نیچے آئے گی، تحریک انصاف کا فتنہ اور فساد جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہو جائے گا، کچھ لوگ اس ملک میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں

لیکن یہ سیاست کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا وقت ہے اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے حکومت اپنا کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا اور بجلی سپلائی میں رکاوٹ آئی تھی تاہم دن رات کی محنت کے بعد بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا ہے، اب صرف معمول کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بجلی کے کھمبے بھی پانی میں بہہ گئے تھے، ملک میں خسارے والے فیڈرز میں معمول کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتنہ اور فساد اگلے چند ماہ میں ایکسپوز ہوجائے گا، کسی جتھے کے پاس جلسے کے لیے 10کروڑ روپے ہیں، وہ 10 کروڑ روپے سیلاب متاثرین کے لیے استعمال ہونے چاہئیں، پنجاب حکومت کے پاس سیلاب متاثرین کے لیے پیسے نہیں ہیں مگر پنجاب حکومت کے پاس وزراء کے لیے گاڑیاں خریدنے کے لیے پیسے ہیں، حالت یہ ہے کہ ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور پی ٹی آئی جلسوں اور تشہیر میں کروڑوں روپے لگا رہی ہے۔خرم دستگیر نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے برطانیہ سے آئے 54ارب روپے بھی لوٹے ہیں، ان لوگوں نے چوری کی مگر یہ جواب دینے کیلئے تیار نہیں، بجلی کے ہر ایک بل پر عمرانی ٹھپہ لگا ہوا ہے، اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے تحریک انصاف نے کیا،

ان کے پاس توشہ خانہ کا کوئی جواب نہیں ہے، معلوم نہیں جو ڈیم فنڈ اکٹھا ہوا تھا وہ کہاں ہے؟ ہماری حکومت نے ان سب باتوں کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے، جتنا ممکن ہوسکا وزیراعظم نے بجلی بلوں میں ریلیف دیا۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر سے فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ بہت کم رہ جائے گی، جس کے باعث ایک ماہ بعد بجلی کی قیمت نیچے آئے گی،

ہم نے پاکستان کو بچانے کے لیے اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا، تاہم اب مشکل ترین وقت گزر چکا ہے اور ہم بہتری کی جانب گامزن ہیں۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ میں ڈھونڈتا رہا لیکن عمران خان کی تقریر میں سیلاب متاثرین کا ذکر نہیں تھا، جلسے میں ہمیں کوئی بتا دیتے کہ 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ کو کیسے امداد پہنچاتے، ہم نے متاثرین کو گھر بنا کر دینے ہیں اور کروڑوں لوگوں کو کھانا فراہم کرنا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…