بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

کامران ٹیسوری کی واپسی پر ایم کیو ایم پاکستان میں پھوٹ پڑ گئی

datetime 10  ستمبر‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی، آن لائن)ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی میں کامران ٹیسوری کی ڈپٹی کنوینئر کی حیثیت سے بحالی پر کئی ارکان ناراض ہوگئے، سینئر رہنما ڈاکٹر شہاب امام نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔ڈاکٹر شہاب امام نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو میرا تحریری استعفیٰ جلد بھیج دیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم قیادت کے حالیہ فیصلوں سے مطمئن نہیں ہوں اور غلط فیصلوں پر بطور احتجاج استعفیٰ دے رہا ہوں۔ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر شہاب امام نے بتایا کہ ایم کیوایم کے دیگر کئی ہم خیال بھی ہیں جو پارٹی فیصلوں سے مطمئن نہیں ہیں۔دوسری جانب ایم کیو ایم کی ایم این اے کشور زہرہ نے شکوہ کیا کہ وہ خاموشی سے کیے گئے فیصلوں سے متفق نہیں۔کشور زہرہ نے کہا کہ چند لوگوں کی خواہشوں کو رابطہ کمیٹی، جنرل ورکرز اجلاس کی رائے کہا جا رہا ہے۔اس کے برعکس کامران ٹیسوری نے کہا کہ پارٹی میں میری شمولیت کی توثیق خالد مقبول صدیقی نے کی ہے، ارکانِ رابطہ کمیٹی کے اعتراضات پر ایم کیو ایم ہی موقف دے گی۔متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان (ایم کیو ایم-پی) نے اپنی رابطہ کمیٹی کے سابق رہنما کامران ٹیسوری کو پارٹی میں واپس شامل کرلیا ہے جنہیں اس سے قبل پارٹی کے اندر اس تقسیم کا ذمہ دار سمجھا جاتا رہا ہے جس کے نتیجے میں ڈاکٹر فاروق ستار کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 22 اگست 2016 کو بانی ایم کیو ایم کی شرانگیز تقریر کے بعد پارٹی دو حصوں (ایم کیو ایم-پاکستان اور ایم کیو ایم-لندن) میں تقسیم ہو گئی تھی۔بعد ازاں کاروباری شخصیت کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر پارٹی مزید ایم کیو ایم بہادر آباد اور ایم کیو ایم-پی آئی بی میں تقسیم ہو گئی تھی جو اس وقت ڈپٹی کنوینر تھے اور ڈاکٹر فاروق ستار کے پسندیدہ تھے۔

اختلاف کی وجہ سے ڈاکٹر فاروق ستار نے بہادر آباد دھڑے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور اپنا علیحدہ گروپ ایم کیو ایم-پی آئی بی بنا لیا۔سینیٹ کی نشستوں پر ایم کیو ایم (پاکستان) کے 4 امیدواروں میں سے کامران ٹیسوری سمیت 3 امیدوار الیکشن ہار گئے تھے، بعد ازاں دونوں دھڑوں نے متحد ہو کر جولائی 2018 کے عام انتخابات ایک پلیٹ فارم سے لڑے۔تاہم ان انتخابات میں ایم کیو ایم نے کراچی میں قومی اسمبلی کی 21 میں سے صرف 4 نشستیں حاصل کیں،

بعد ازاں کامران ٹیسوری کے معاملے پر اختلافات دوبارہ ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم بہادر آباد سے نکالنے کا سبب بنے۔گزشتہ 4 برسوں کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم-پاکستان میں دوبارہ لانے کی متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم وہ اس بات پر مصر رہے کہ کامران ٹیسوری کو وہی عہدہ دیا جائے جو پارٹی چھوڑنے سے پہلے ان کے پاس تھا۔حال ہی میں ڈاکٹر فاروق ستار کی ایم کیو ایم میں واپسی تقریباً نزدیک دکھائی دینے لگی تھی

لیکن آخری لمحات میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کی قیادت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے حلقہ این اے 245 پر گزشتہ ماہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا تھا جہاں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ایم کیو ایم (پاکستان) کے ایک رہنما نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فاروق بھائی کو واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا تھا کہ کامران ٹیسوری کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ ایک کارکن کے طور پر پارٹی میں واپس آسکتے ہیں،

جہاں تک میری معلومات ہے فاروق بھائی نے بھی اس سے اتفاق کیا تھا۔ذرائع نے اشارہ دیا کہ یہ صورتحال سیاسی جماعتوں پر بعض حلقوں کے اثر و رسوخ کی بہترین مثال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل ایم کیو ایم (پاکستان) کے مرکزی رہنماؤں نے بااختیار قوتوں کے ساتھ ایک ملاقات کی جس میں کامران ٹیسوری کو ان کے سابقہ عہدے پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔نتیجتاً ایم کیو ایم (پاکستان) کے کنوینر نیگذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کی جہاں انہوں نے تمام ناراض اور غیر فعال کارکنان اور رہنماؤں سے کہا کہ وہ واپس آئیں اور پارٹی میں شامل ہو جائیں۔

بعد ازاں پارٹی کی جانب سے جمعرات کی شب جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ ’رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں ایم کیو ایم کی کال پر پارٹی میں واپس آنے والے تمام افراد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ کامران ٹیسوری نے اپنے ساتھیوں سمیت پارٹی میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی ہے اور اجلاس میں انہیں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کے عہدے پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پارٹی نے پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے 3 سابق رہنماؤں ڈاکٹر صغیر احمد، وسیم آفتاب اور سلیم تاجک کو بھی اپنی رابطہ کمیٹی کا رکن بنایا جو چند ماہ قبل ایم کیو ایم (پاکستان) میں واپس آئے تھے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں خواجہ اظہار الحسن اور عبدالوسیم کو بھی پارٹی کا ڈپٹی کنوینر بنا دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…