اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن/این این آئی)پی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ توہین عدالت اور نیب کے قانون کے تحت آنے والے فیصلے متنازعہ رہتے ہیں، توہین عدالت غیر شرعی قانون ہے جس کا شرعی عدالتوں اور بڑے ممالک میں تصور ہی نہیں ہے۔
قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ایک سے زائد بار کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی کوٹارگٹ کرنا نہیں تھا، ایک نتیجہ عدالت کے اندر اور دوسرا باہر نکلے گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ ایک فیصلہ عدالت میں آتا ہے، جس کی بنیاد قانون، واقعات، ایشو پر ججز کی سوچ ہوتی ہے، لیکن جو فیصلہ باہر آتا ہے وہ ایک اور قسم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ سمیت سارے ادارے 2 باتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔پی ٹی ا?ئی رہنما نے مزید کہا کہ حکومت تو خود کہتی ہے کہ ابھی عمران خان کے خلاف کیسز آنے ہیں، خواجہ آصف نے کل پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مزید کیسز آئیں گےدوسری جانب اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت نے لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کے مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں 27ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت سیشن جج کامران بشارت مفتی نے کی جبکہ وکیل بابر اعوان نے عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی۔جج نے وکیل سے استفسار کیاکہ عمران خان کب پیش ہو سکتے ہیں۔ جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیاکہ کیا عمران خان نے تفتیش جوائن کی ہے۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ جی بذریعہ کونسل شامل تفتیش ہوگئے ہیں۔عدالت نے عمران خان کی عبوری درخواست ضمانت میں 27 ستمبر تک توسیع کر دی۔



















































