جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

عمران خان پیش ہو گئے عبوری ضمانت منظور

datetime 1  ستمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن)خاتون مجسٹریٹ اور اعلیٰ پولیس افسران کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12ستمبر تک توسیع کی درخواست منظور کر لی۔خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکی دینے پر دہشت گردی کے مقدمے میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف

کے چیئرمین عمران خان اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، بابر اعوان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے حکم پر عمران خان کمرہ عدالت پہنچ گئے ہیں۔ سماعت کے دوران جج نے پولیس سے استفسار کیا کہ عمران خان کا تعلق کس دہشتگرد تنظیم سے ہے یا ان سے کون سی کلاشنکوف برآمد ہوئی ہے اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جج صاحب ان سے پوچھ لیں ہر روز نئی دفعہ لگاتے ہیں تاکہ ہم ایک بار کیس کو دیکھ لیں جس پر جج نے کہا یہ ہر دس دن کے اندر کوئی دفعہ لگاتے رہیں گیاگر کوئی سیکشن لگانے ہیں تو ابھی سے کرلیں۔ اس موقع پر بابر اعوان نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ کوئی دفعہ رہ تو نہیں گیا؟ اس موقع پر عدالت نے کہا کہ دہشت گردی کے علاوہ سارے سیکشن قابل ضمانت ہیں ،کیس کی سماعت نو بجے ہوئی تو عمران خان کمرہ عدالت میں موجود نہیں جس پر جج نے کہا کہ عمران خان کا کمرہ عدالت میں موجود ہونا ضروری ہے جس پر بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔

اسلام آباد پولیس روزانہ لکھتی ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت نہیں آئے اس موقع پر عدالت نے عمران خان کو دن 12 بجے طلب کیا دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ عمران خان کے درج مقدمہ میں جو دفعات لگی ہین ان میں ضمانت منظور کر لیتے ہیں جج نے پولیس سے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے کسی کو جلانے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے؟

جس پر بابر اعوان نے کہا کہ ہمارے ساتھی شہید ہوئے ہم نے عدالت نہیں چھوڑی ہمارے ساتھیوں کی شہادت پر آج تک کچھ نہیں ہوا، مگر سابق وزیر اعظم پر مقدمہ بنایا۔ عدالت نے عمران خان کی ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کردی اور ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض نئی دفعات میں بھی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ 12 ستمبر کو حتمی دلائل دیں، اْسی روز آرڈر کریں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…