بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

یورپی یونین میں سیاسی پناہ کی فہرستوں میں پنجاب پولیس کے افسران بھی شامل، اہم انکشافات

datetime 6  اگست‬‮  2022 |

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک )پنجاب کے متعدد پولیس افسروں نے یورپی یونین میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی ہیں، روزنامہ جنگ میں  رضا چوہدری کی شائع خبر کے مطابق  راولپنڈی رینج سے تعلق رکھنے والے دو پولیس،افسر جنہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دی ہیں

نے بتایا کہ پاکستان پولیس افسران اور جوانوں نے بڑی تعداد میں جانوں کا نذرانہ دیا ہے مگر،عام حالات میں ملازمت میں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے ہزاروں افسران اور ملازمین معمولی بات پرملازمتوں سے برخاست ہوکر بے یارو مددگار کار بیٹھے ہیں انہوں اپنی ناجائز برخاستگی کے خلاف اپیل کر رکھی ہیں مگر کئی سال گزرنے کو ہیں ہزاروں ملازمین کی اپیلیں التوا میں پڑی ہیں، درجنوں طویل عرصہ بعد سیاسی اثررسوخ سے بحال ہوئے ہیں لہذا ہم لانگ لیو لے کر یہاں پہنچے ہیں اور مجبوری کے تحت سیاسی پناہ کی درخواستیں دے رہے ہیں ،انہوں بتایا دو تین سالوں میں متعدد افسران سیاسی پناہ حاصل کرچکے ہیں انہوں نے بتایا کہ صوبائی کیڈر سے سینر کیڈر میں جانے والے افسران کے ساتھ سابق حکومت نے جو امتیازی سلوک کیا جس کے باعث وہ بھی بیرون ممالک آنا شروع ہو گئے ہیں جب پنجاب میں امن امان کےلئے پولیس فورس کی کمی ہے مگر دس ہزار سے زیادہ پولیس ملازمین اپنی بے گناہ برخاستگی کی اپیلوں کے انتظار میں بے روز گار بیٹھے ہیں ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکمران اپنے سیاسی دنگل میں مصروف ہیں ملازمین فٹ بال بنے ہوئے ہیں ادارے تباہ ہورہئے ہیں لاقانونیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے پولیس ملازمین کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…