ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

کائناتی تحقیق کے لیے 64 ریڈیائی دوربینوں کو یکجا کردیا گیا

datetime 28  جون‬‮  2022 |

پریٹوریا(این این آئی)تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک دو نہیں بلکہ 64 ریڈیائی دوربینوں کی قوت ایک ساتھ ملائی گئی ہے۔ اس کا مقصد عمومی طور پر کائنات کے رازوں کو افشا کرنا، ارتقا کو سمجھنا ہے تو بالخصوص دور بہت دور موجود نیوٹرل (چارج کے بغیر)ہائیڈروجن گیس کا پتا لگانا ہے

جو بہت ہی نحیف آثار رکھتی ہے۔اس کاوش میں ممتاز ماہرینِ فلکیات کی ٹیم شامل ہے جنہوں نے جنوبی افریقہ میں واقع میرکاٹ دوربین کی 64 ڈشوں کو ایک کیا ہے۔ اسے ترقی دے کر دنیا کی سب سے بڑی ریڈیائی دوربین بنایا جائے گا جس ایس کے اے آبزوریٹری (ایس کے اے او)کا نام دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس کا پورا نام اسکوائر کلومیٹر ایرے آبزرویٹری ہے۔ اس منصوبے سے 20 ممالک کے 500 انجینیئر اور سینکڑوں ماہرین وابستہ ہیں۔ مختلف علاقوں میں 64 کے قریب ریڈیائی دوربینیں ہیں۔ اس کا اہم مقصد کائنات کی وسعت پر بڑے پیمانے پر تحقیق کرنا ہے۔ اس پیمانے پر بڑی کہکشاں بھی ایک نقطے کی مانند نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ تاریک مادے اور خود کائنات میں ثقلی قوت پر تحقیق کو مدِنظر رکھا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈیائی دوربینیں چونکہ ریڈیو امواج پر کام کرتی ہیں وہ 21 سینٹی میٹر طول موج (ویو لینتھ)کو دیکھ سکتی ہیں جو نیوٹرل ہائیڈروجن سے خارج ہوتا ہے۔ یہ عنصر کائنات میں عام ہے لیکن اس کا بصری مشاہدہ کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کی تفصیلات دیکھ کر ہم کائنات میں مادے کے تقسیم اور موجودگی پر ہم تحقیق کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب کائنات کے بعید ترین گوشوں میں موجود دوردراز علاقوں کے اجسام کو بھی ریڈیائی دوربینوں سے بلند معیاری عکس کے ساتھ دیکھا جاسکتاہے۔ اس کے لیے ہم عموما انٹرفیرومیٹر لگاتے ہیں لیکن اس ٹیکنالوجی کی اپنی حدود ہیں اور یہ اتنا حساس نہیں ہوتا کہ

خاطرخواہ کائناتی رازوں کو جاننے میں مدد دے سکے۔ اسی لیے اب 64 ڈشوں کو یکجا کیا گیا ہے جسے ماہرین نے ایک انقلابی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے کونیاتی تحقیق میں بہت مدد ملے گی۔اچھی بات یہ ہے کہ چار براعظموں پر موجود دیگر ریڈیائی رصدگاہوں نے بھی

اس مشن میں شمولیت اختیار کی ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ اس طرح سنگل ڈش ٹیکنالوجی نے اہم انکشافات بھی شروع کردیئے ہیں۔ ان میں میرکاٹ کے ریڈیائی اور اینگلو آسٹریلیئن ٹیلی اسکوپ کے بصری مشاہدات کو باہم ملایا گیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ریڈیائی دوربین کے ادغام سے ماہرین نے بہت بڑا کائناتی اسٹرکچر دریافت کیا ہے۔ اس طرح ایک سے زائد ریڈیائی دوربینوں کو باہم ملاکر یہ پہلی اہم دریافت سامنے آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…