چین نے پاکستان کو بڑا جھٹکا دیدیا ،اہم معاملے پرسیکرٹری خارجہ اور ترجمان دفتر خارجہ کی پراسرار خاموشی

  پیر‬‮ 27 جون‬‮ 2022  |  11:55

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بیجنگ میں عالمی ترقی پر اعلیٰ سطح مذاکرات، پاکستان نظر انداز، سیکرٹری خارجہ اور ترجمان دفتر خارجہ نے اہم فورم سے پاکستان کی عدم موجودگی کا جواب نہیں دیا۔روزنامہ جنگ میں صالح ظافر کی شائع خبر کے مطابق چین کی جانب سے

ایک روز قبل بیجنگ میں ہونے والے عالمی ترقی کے بارے میں اعلیٰ سطح مذاکرات میں مدعو کرنے پر پاکستان کو واضح طور پر نظر انداز کیا گیا ہے جس کی میزبانی چینی صدر شی جن پنگ نے کی اور دیگر کے علاوہ بھارت، ایران، مصر، فجی، الجزائر، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا اور دو سی اے ایس اس ڈائیلاگ کے شرکاء تھے۔ اس میں روسی صدر پیوٹن نے بھی شرکت کی۔ دفتر خارجہ اور اس کے ترجمان منفی پیش رفت پر خاموش ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ نے 19 ممالک کے ڈائیلاگ کی صدارت کی اور ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ انہوں نے ’عالمی ترقی کے نئے دور کے لیے اعلیٰ معیار کی شراکت داری قائم کرنا‘ کے عنوان سے اہم تقریر کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پائیدار ترقی کے 2030ایجنڈے کو مشترکہ طور پر نافذ کرنے کے لیے نئے دور کے لیے ایک عالمی ترقیاتی شراکت داری کو فروغ دینے کی تھیم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تمام ممالک کے رہنماؤں نے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے 2030 ایجنڈے پر عمل درآمد کو تیز کرنے جیسے اہم امور پر گہرائی میں تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ترقیاتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثناء سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور دفتر خارجہ کے ترجمان نے اہم فورم سے پاکستان کی عدم موجودگی کے سوال کا جواب نہیں دیا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎