ایک بار پھر سیاسی ہلچل، وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

  بدھ‬‮ 18 مئی‬‮‬‮ 2022  |  19:59

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) ایک بار پھر سیاسی ہلچل، وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی،تحریک عدم اعتماد بلوچستان عوامی پارٹی، پی ٹی آئی، عوامی نیشنل پارٹی کے 14ارکان کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی ہے، تفصیلات کے مطابق

بدھ کو بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، سینئر سیاستدان سردار یار محمد رند، ارکان اسمبلی اصغر خان اچکزئی، میر سلیم کھوسہ، میر عارف جان محمد حسنی، سردار سرفراز ڈومکی بلوچستان اسمبلی پہنچے جہاں انہوں نے سیکرٹری اسمبلی کے دفتر میں آئین کے آرٹیکل136کے تحت وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدو س بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد جمع کروائی جس میں وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو منظور کر کے انہیں عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تحریک عدم پر کل 14ارکان نے دستخط کئے ہیں جن میں 2صوبائی وزرا ء بی اے پی کے سینئر صوبائی وزیر نوابزادہ طارق مگسی اور پی ٹی آئی کے مبین خلجی اور ایک مشیر میر نعمت اللہ زہری شامل ہیں جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے 7ارکان کے کل سات ارکان نے تحریک پر دستخط کئے ہیں جن میں جام کمال خان، میر ظہور بلیدی، نوابزادہ طارق مگسی میر عارف جان محمد حسنی، میر سلیم کھوسہ، مٹھا خان کاکڑ، سردار سرفراز ڈومکی، پی ٹی آئی کے 4ارکان سردار یار محمد رند، میر نعمت اللہ زہری، مبین خلجی،بی بی فریدہ رند، عوامی نیشنل پارٹی کے تین ارکان اصغر خان اچکزئی، پارلیمانی سیکرٹری ملک نعیم بازئی، پارلیمانی سیکرٹری شاہینہ کاکڑ شامل ہیں۔اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد 5بجکر 50منٹ پر ریسیو کی گئی جبکہ عملے نے اس پر دستخط اور مہر بھی لگائی ہے۔



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎