نئی سم یا امدادی سکیم کے ذریعے فنگر پرنٹس لینے والا گروہ سرگرم، پی ٹی اے نے عوام کو خبردار کردیا

  اتوار‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2022  |  23:32

کراچی(این این آئی)مفت میں نئی موبائل فون سم، امدادی اسکیموں میں انعام نکلنے یا ایسی ہی دوسری فری پرکشش خدمات کی فراہمی کا جھانسہ دے کر شہریوں کے فنگر پرنٹس اور دیگر معلومات حاصل کرنے والا گروہ سرگرم ہوگیا ہے جو یہ اہم ڈیٹا شہریوں کے بینک، موبائل اکاونٹس سے رقوم نکالنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق کچھ جعلساز شہریوں کو چلتے پھرتے مفت میں موبائل سم کارڈز یا امدادی اسکیموں کا دھوکہ دے کر ان کے انگوٹھوں یا انگلیوں کے نشانات لے کر محفوظ کرلیتے ہیں، شناختی کارڈ اور دیگر ذاتی معلومات حاصل کرتے ہیں، یہ قیمتی ڈیٹا غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔پی ٹی اے نے شہریوں کو فنگر پرنٹس دیتے ہوئے محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرراہ کسی پرکشش آفر دینے والے کو اپنا فنگر پرنٹ یا قیمتی ڈیٹا ہرگز نہ دیں بلکہ اپنی ضرورت کے تحت اطمینان کے بعد اپنے فنگر پرنٹس کسی مجاز سیلز شاپ، کسٹمر سروس سینٹر، فرنچائز یا انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کا موثر نظام رکھنے والے ریٹیلر کو ہی دیں۔پی ٹی اے حکام کے مطابق شہری فنگر پرنٹس دیتے وقت اپنے پاس یہ تفصیلات ضرور نوٹ کرلیں کہ انہوں نے کس موبائل فون کمپنی یا کسی ادارے کے سیلز آفس کا کب وزٹ کیا؟ فنگر پرنٹس دینے کا مقصد، سیلز چینل کا نام اور پتہ وغیرہ بھی تاریخ کے ساتھ محفوظ رکھیں تاکہ ان ایام میں شہری کے ساتھ کوئی دھوکہ دہی ہوئی ہو تو اس کا سدباب کیا جا سکے۔حکام کے مطابق کسی دھوکہ دہی کا شبہ ہونے پر پی ٹی اے سی ایم ایس موبائل ایپ پر یا ویب سائٹ کے ذریعے پی ٹی اے کو رپورٹ کریں۔



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎