بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

سیاسی تنازعات کیلئے مذہب کا استعمال درست نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ

datetime 12  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ مذہب کو سیاست میں استعمال نہیں کرنا چاہیے، ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے لہٰذا ریاست کو چاہیے سیاسی قیادت کو بٹھائے اور پالیسی بنائیکہ مذہب کو سیاست میں نہیں لانا کیونکہ سیاسی تنازعات کیلئے مذہب کا استعمال درست نہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے مسجد نبوی ؐواقعہ پر فواد چوہدری،

قاسم سوری اور شہباز گل کی درخواستوں پر سماعت کی جس سلسلے میں فواد چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سیاسی قیادت ہی سوسائٹی میں تبدیلی اور صبر لا سکتی ہے، مذہب کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا خود توہین مذہب ہے، اس طرح 2018 میں بھی ہوا اور پہلے بھی ہوتا رہا، یہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک غیر ملکی کو سیالکوٹ میں مارا گیا اور مشال خان کا واقعہ بھی سامنے ہے، یہاں پر بھی جو کیسز درج ہو رہے ہیں وہ درست معلوم نہیں ہوتے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مذہبی جذبات کا احترام ہے مگر ریاست کی بھی ذمہ داری ہے، مدینہ منورہ میں واقعہ ہوا، ریاست کا کام ہے یقینی بنائے کہ مذہبی استحصال نہ ہو، اس کورٹ کے پاس بھی ایسی پٹیشن آئی تھی جسے خارج کر دیا، اگر تاثر ہے کہ سیاسی طور پریہ ہورہا ہے تویہ تاثر زائل کرنا بھی ریاست کا کام ہے، ریاست نے ماضی میں مذہب کی بنیاد پر اس طرح کی حرکتیں کی ہیں، لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہب کو سیاست میں استعمال نہیں کرنا چاہیے، ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے لہٰذا ریاست کو چاہیے سیاسی قیادت کو بٹھائے اور پالیسی بنائیکہ مذہب کو سیاست میں نہیں لانا کیونکہ سیاسی تنازعات کے لیے مذہب کا استعمال درست نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آئین پاکستان کی بہت بے توقیری ہو چکی ہے، آئین پاکستان ہی لوگوں کو اکٹھا رکھ سکتا ہے، ہم آئین کو سپریم نہیں سمجھتے ورنہ آج ملک میں یہ حالات نہ ہوتے، ادارے بھی اسی آئین کے تابع ہیں، سب کو آئین کی پاسداری کرنی چاہیے، آئین کے تحت ہر ادارہ جوابدہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…