مولانا طارق جمیل کے معتقدین اب ان کے ناقدین بنتے جا رہے ہیں،موقر قومی اخبار کی رپورٹ

8  مئی‬‮  2022

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دینی حلقوں اور مذہبی رجحان رکھنے والے مختلف طبقات میں غیرمعمولی مقبولیت رکھنے والے نامور مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل کو عوامی سطح پر بھی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

لیکن دیگر ذرائع کے علاوہ سوشل میڈیا پر ہونے والی ان کے بارے میں ناقدین کی آراء، ان کے احترام کے باوجود ان پر تنقید اور ان کی متاثر کن شخصیت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ محبتوں میں کمی کا احساس بتدریج تیزی سے بڑھا ہے اور وہ حلقے اور طبقات جو ان سے مسلکی اختلاف رکھنے کے باوجود ان کے گرویدہ تھے اب ان سے قدرے لاتعلق ہوتے جارہے ہیں۔ ان کے طرز تکلم اور فکرانگیز بیان کے دوران ان کے آنسو سننے والوں پر بھی رقت طاری کر دیا کرتے تھے۔ روزنامہ جنگ میں فاروق اقدس کی شائع خبر کے مطابق ان کے وہ متاثرین اب ان کے ناقدین میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں اور اس کی بنیادی اور اہم وجہ جو مختلف ذرائع سے سامنے آئی ہے وہ ان کی سیاسی حوالوں سے وابستگی اور مصروفیت ہے۔ اپنی خدمات کے ضمن میں ان کا حوالہ تبلیغ ہے۔ لیکن ان کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وزیراعظم بن جانے کے بعد ان سے ملاقاتوں اور ان کی تعریف و توصیف کو ان کے چاہنے والوں نے پسند نہیں کیا بالخصوص ان لوگوں نے جو اپنے دینی رجحانات کے حوالے سے سیاستدانوں سے وابستگی یا کسی بھی قسم کے تعلق سے گریز کرتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



موت کی دہلیز پر


باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…

کاشان کے گلابوں میں

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ یہ سارا…

شاہ ایران کے محلات

ہم نے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

امام خمینی کے گھر میں

تہران کے مال آف ایران نے مجھے واقعی متاثر کیا…

تہران میں تین دن

تہران مشہد سے 900کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لہٰذا…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن (دوم)

فردوسی کی شہرت جب محمود غزنوی تک پہنچی تو اس نے…