اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

عمران خان کے حوالے سے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر شاہد آفریدی بھی میدان میں آ گئے

datetime 7  مئی‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (این این آئی)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے کبھی عمران خان کی ذات پر تنقید نہیں کی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے کا حق انہیں حاصل ہے۔شاہد آفریدی، المعروف بوم بوم لالا کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے متعلق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 3 منٹ 41 سیکنڈ طویل ویڈیو پیغام شیئر کیا ہے

جس میں انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے اْن سے نا صرف محبت کا اظہار کیا بلکہ اْن پر تنقید بھی کی ہے۔شاہد آفریدی نے اپنے ویڈیو پیغام کے آغاز میں اپنی شہرت اور بہترین کرکٹ کیریئر کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرایا۔شاہد آفریدی نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کا احترام کرنا مہذب معاشرے کی نشانی ہے، اْنہوں نے بطور کپتان ہمیشہ عمران خان کی تعریف کی ہے لیکن بطور وزیر اعظم، عران خان کی سوچ اور پالیسیوں سے اختلاف کرنا اْن کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ میرے آئیڈیل رہے ہیں، ان کو دیکھ کر کرکٹ شروع کی، 1992ء ورلڈ کپ سے ہماری بہت یادیں جڑی ہیں۔شاہد آفریدی نے کہا کہ میں نے کبھی عمران خان کی ذات پر تنقید نہیں کی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے کا حق مجھے حاصل ہے، میں یہ بات ایک عام شہری کی حیثیت سے کر رہا ہوں، میں نے سیاسی باتوں کی وجہ سے تنقید نہیں کی، عام پاکستانی کے طور پر خیالات کا اظہار کیا ہے اور تنقید اور اختلاف کرنے کا حق ہر پاکستانی کو حاصل ہے۔شاہد آفریدی نے کہا کہ ایک دوسرے سے اختلافات رکھیں لیکن اسے نفرت میں نہیں بدلنا چاہیے۔شاہد آفریدی نے کہا کہ جب میں نے نو منتخب وزیر اعظم، شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے کی مبارکبادی دی تھی تو میں جانتا تھا کہ مجھ پر تنقید ہوگی، شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے کی مبارکباد دینے کے پیچھے میرا کوئی سیاسی یا زاتی مفاد شامل نہیں ہے۔شاہد آفریدی کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ جو بھی سربراہ ہیں ہمارے ملک کے وہ تمام قابل احترام ہیں کیوں کہ وہ ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، ہم اگر ملک کی عزت چاہتے ہیں تو حکومت وقت اور اپنے سربراہوں کی عزت کرنی ہوگی۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…