اسلام آباد(این این آئی) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ امید ہے سپریم کورٹ آئین کا دفاع کریگا،نظریہ ضرورت کا نہیں، معاملات کو آگے بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، سپریم کورٹ فیصلہ کرتی ہے آئین کی نفی ہوئی ہے تو پھر نگران سیٹ اپ کی کوئی حیثیت نہیں، ساری جھوٹ کی عمارت نیچے گڑ پڑے گی،اگر نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے کہا ہے ملک کے
خلاف امریکہ سازش کررہا ہے اور اس سازش میں اپوزیشن کے 198اراکین ملوث ہیں تو نیشنل سکیورٹی کمیٹی، وزیراعظم،حکومت کی ذمہ داری ہے مقدمہ درج کر کے کارروائی کرے، وزیر اعظم آئین کی نفی کر کے الیکشن کروارہا ہے، آپ فارغ ہوگئے ہیں، اگلی حکومت آئے گی اور اپنے وقت پر الیکشن کرائیگی، یہی آئین کہتا ہے، اسمبلی اجلاس سے قبل وزیر اعظم، صدر، سپیکر، ڈپٹی اور وزراء کی ملاقاتیں ہوئی ہیں، (آج)پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کرینگے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ وزیر اعظم نے اپنا حلف پڑھا ہے، اس میں لکھا آئین کا دفاع کر نا ہے، اس ملک کا وزیر اعظم، آئین توڑ کر، عدم اعتماد کی نفی کر کے، غداری کی با تیں کر کے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے معاملے پر جھوٹ بول کر الیکشن کی بات کرتا ہواسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ ملک میں کسی عہدے پر رہ سکے۔ انہوں نے کہاکہ بد قسمتی ہے کہ وزیراعظم میں جرات نہیں آئین کی نفی کر کے الیکشن کروا رہا ہوں، آپ فارغ ہوگئے ہیں، اگلی حکومت آئیگی اور وہ اپنے وقت پر الیکشن کرائیگی یہی آئین کہتا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ الیکشن اپنے وقت پر ہونگے، عدم اعتماد کے بعد حکومت آئے گی وہ فیصلہ کریگی کہ الیکشن کب ہونگے،آئین توڑ کر الیکشن نہیں کر اسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب ملک کا آئین ٹوٹتا ہے وہ سرپرائز نہیں ہوتا دکھ بھی ہوتا ہے،ملک کا وزیر اعظم خود آئین توڑ رہا ہوں، یہ غیر معمولی حرکت ہے، صدر، وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزیر قانون اور وزراء نے ایک سازش کر کے کھلم کھلا آئین کو توڑا ہے، اتنی واضح آئین کے توڑنے کی مثال کبھی تاریخ میں آئی ہے، بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے بار ے میں یہ کہا جہاں پرملک کی اعلیٰ ترین عسکری قیادت،چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف تمام چیفس اور سکیورٹی اداروں کے سربراہ بیٹھتے ہیں، وزیر اعظم چیئر کرتا ہے، پانچ وزراء ہوتے ہیں اس کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں اس کمیٹی نے کہا ہے کہ ملک کے خلاف امریکہ سازش کررہا ہے اور اس سازش میں اپوزیشن کے 198اراکین ملوث ہیں، میرا نام بھی انہی میں ہے، عمران خان آج بھی وزیراعظم ہیں چیلنج کرتا ہوں ہمارے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، میرے خلاف کارروائی کی جائیگی، اگر نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے منٹس میں یہ فیصلہ ہے کہ اپوزیشن نے ملک کیخلاف امریکہ کے ساتھ ملکر سازش کی ہے یہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی، وزیراعظم،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرچہ درج کر کے کارروائی کرے،
پھر آپ نے قومی اسمبلی میں سازش کے ذریعے آئین کو توڑ کر آرٹیکل پانچ کا حوالہ دیکر ملک میں آئین کی نفی کی،عدم اعتماد پر ووٹ کو اپنی کرسی بچانے کیلئے روکا،اتنی بڑی آئین کی وائلیشن ہوئی ہو،دو آئینی عہدیدار آئین توڑنے میں ملوث ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ یہ سنگین نوعیت کا معاملہ ہے، پورے پاکستان کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں، عوام یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہماری سپریم کورٹ آئین کا دفاع کریگی یا اس کا دفاع کر نے میں ناکام رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ ماضی کے سپریم کورٹ کے جوفیصلے ہیں،
اہم موڑ ہے ملک کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں ہم نے ماضی میں وہ فیصلے جن سے ملک کا نقصان ہوا ان کے اثر کو ختم کر نے کیلئے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ وہ فیصلہ کرے جو آئین کو توڑنے والوں کوسزا دے،جوجمہوری اور سیاسی عمل کو آگے بڑھا سکے، آج پورے ملک کی نظریں لگی ہیں۔ایک سوا ل پر انہوں نے کہاکہ صدر خود سازش میں ملوث ہیں، وزیر اعظم سے ملے ہیں،
سپیکر، وزراء ملے ہیں، پریس کانفرنس میں انکشاف کرینگے کب سازش ہوئی، صدر معاملے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں معاملات کو آگے بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، فیصلہ سپریم کورٹ کے پاس ہے، سپریم کورٹ فیصلہ کر دے جو عمل ڈپٹی سپیکر نے کیا جس میں وزیر اعظم، سپیکر ملوث تھے،یہ ساری جھوٹ کی عمارت نیچے گڑ پڑیگی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہمیں توقع ہے
سپریم کورٹ آئین کا دفاع کریگا،نظریہ ضرورت کا دفاع نہیں کریگا،اگر نگران سیٹ اپ بن بھی جاتا ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، حیثیت آئین ہے، سپریم کورٹ فیصلہ کرتی ہے کہ آئین کی نفی ہوئی ہے تو پھر نگران سیٹ اپ کی کوئی حیثیت نہیں ہے،آج ضرورت یہ ہے کیا ہم تاریخ میں اس فیصلے کا دفاع کر سکیں گے یا نہیں کر سکیں گے کیونکہ سپریم کورٹ کے بہت سے فیصلے جونظریہ ضرورت کے تحت ہوئے ہم اس کا دفاع کر نے کے قابل نہیں ہیں۔



















































