اسلام آباد ( آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن حکومت میں آکر این آراو ٹو لینے کیلئے نیب ختم کرے گی، بیرونی سازش کے تحت حکومت گرانے کی کوشش کی گئی، پنجاب میں بھی خریدو فروخت کی اطلاع ملی ہے، آئندہ الیکشن میں نظریاتی لوگوں کو ٹکٹ دیں گے۔ انہوں نے عوام سے براہ راست بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ساڑھے تین سال سے کہہ رہی تھی کہ انتخابات کرائیں،
اپوزیشن کہتی رہی کہ حکومت سلیکٹڈ اور نااہل ہے اور ناکام ہوگئی اسی لیے ہم نے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے، ہم اب کہہ رہے ہیں کہ الیکشن لڑو اور اپوزیشن ہمارے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ انتخابات میں اپنے امپائر کھڑے کرنا چاہتے ہیں، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو لا کر الیکشن کی طرف چلے جائیں، یہ لوگ الیکشن کمیشن میں اپنے بندے لگاکر اس کے بعد انتخابات کی طرف جانا چاہتے ہیں، ان کی کوشش ہے کہ اقتدار میںآکر اپنے کیسز ختم کردیں، ان کی ساری کوششیں نیب کے خاتمے کے لیے ہیں۔یہ لوگ حکومت میں آکراین آراو ٹو لیں گے، یہ حکومت میں آکر اپنے کیسز اورنیب ختم کرائیں گے،بیرونی سازش کے تحت حکومت گرانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اطلاع ملی کہ پنجاب میں بھی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے، ہمیں اب تجربہ ہوگیا ہے،ٹکٹ کن لوگوں کو دینا چاہیے اس پر کام کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایم این ایز کو خرید کر دوسری حکومت بنانا کوئی جمہوریت نہیں ہے، اس پر باہر سے بھی ایک سازش کا حصہ بن جائے کہ جو کہیں کہ اگر عمران خان کی حکومت گرے گی تو ہم آپ کے ملک مدد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ خرید و فروخت اور بیرون سازش ملا کر یہ کرنا جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔انہوںنے کہاکہ اس طرح کے حالات میں عوام کو احتجاج کرنا چاہیے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں بھی اس احتجاج میں شامل ہوں گا،
ہم اسلام آ باد میں ریڈ زون کے باہر پر امن احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں ہونے والی غداری کے خلاف احتجاج کریں گے، یہ باہر کیایجنڈے پر حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی ہے،وزیر اعظم نے لاہور میں بھی مذکورہ ہوٹل کے باہر احتجاج کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کو بتانا چاہتا ہوں پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات ریکارڈ پر ہے، دولت میں اضافہ ہوا ہے، ٹیکسز میں اضافہ ہوا ہے بر آمدات میں اضافہ ہوا بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ رقم بھیجی، جس کی وجہ سے ہمارا ملک مستحکم تھا۔
انہوں نے کہاکہ جب سے عدم اعتماد کی تحریک آئی ہے سارے ملک میں ایک بحران کا المیہ بنا ہوا ہے، پقپ کے روپے پر دباؤ ا پرہا ہے، کسی کو نہیں معلوم پگے کیا ہوگا، یہ معاشی بحران کا سبب بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان کو کیا ضرورت تھی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی ان کا پلان 6 ماہ سے چل رہا تھا جس کے شواہد ہمارے پاس موجود ہیں، اسی لیے اسپیکر نے یہ تحریک مسترد کرنے کی رولنگ دی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دوسری وجہ یہ تھی کہ انہیں فکر ہوگئی تھی کہ اگر ہماری حکومت نے 5 سال مکمل کر لیے تو ان کی سیاسی دکانیں بند ہوجائیں گی۔



















































