جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

علی زیدی نے لاپتا افراد کے مسئلے کو سیاسی طنز کے لیے استعمال کرنے پر معافی مانگ لی

datetime 27  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے لاپتا افراد کے مسئلے کو سیاسی طنز کے لیے استعمال کرنے پر معافی مانگ لی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر نے مریم نواز اور حمزہ شہباز کی ایک تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر۔مذکورہ تصویر مسلم لیگ (ن) کی لاہور سے اسلام آباد کیلئے نکلنے والی ریلی کی تھی

جس میں مریم نواز ہاتھ میں نواز شریف کی تصویر تھامے حمزہ شہباز کے ہمراہ ایک ٹرک پر سوار نظر آرہی تھیں۔لاپتا افراد جیسے سنجیدہ مسئلے کو بطور طنز استعمال کرنے پر وفاقی وزیر کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ان ہی کی ساتھی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے علی زیدی کو مخاطب کیے بغیر ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ پاکستان میں لاپتا افراد کا مسئلہ سنجیدہ اور دلخراش ہے کوئی مذاق نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ جبری گمشدگی کی مخالفت کی ہے، جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے سے متعلق ہماری حکومت کا بل منظوری کے حتمی مرحلے میں ہے۔علی زیدی کی ٹوئٹ کو کوٹ کر کے معروف سوشل ایکٹویسٹ جبران ناصر نے کہا کہ حکمران جماعت فطرتاً جگت باز صحیح مگر جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا غم کوئی لطیفہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ان ماؤں بیویوں بہنوں اور بیٹیوں کی توہین ہے جو سالوں اپنے لاپتہ پیاروں کی تصویر اٹھائے ریاست سے سوال پوچھنے کی جرات کرتی ہیں، مظلوم کی مظلومیت کا مذاق اڑانے والے خود ایک دن مذاق بن جائیں گے۔ایک اور معروف وکیل ریما عمر نے علی زیدی کے ریمارکس کے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نقل کیا جس میں کہا گیا تھا کہ کسی فرد کا لاپتا ہونا انسانیت کے خلاف جرم ہے، وزیراعظم اور کابینہ کے اراکین ملک کے عوام کی خدمت کیلئے ہیں، ریاست کا لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے ردِ عمل افسوسناک ہے۔

ان کے علاوہ نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے والد نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ صرف وہ افراد لاپتا افراد کے خاندانوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں جن کے ضمیر لاپتا ہیں۔بعد ازاں علی زیدی نے اپنی ٹوئٹ میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اگر میری پوسٹ سے جبری گمشدگی کے شکار کسی فرد کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں کسی کو غیر قانونی حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ میں نے خود گزشتہ ادوارِ حکومت میں لاپتا ہوجانے 100 سے زائد افراد کو بازیاب کرانے میں مدد دی تھی۔انہوں نے وزارت انسانی حقوق کو ٹیگ کر کے کہا کہ وزارت اس غیر قانونی عمل کے خلاف قانون سازی کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…