جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

کورٹ میرج کے دو روز بعد دلہا عمارت کی چھت سے گر کر ہلاک

datetime 4  مارچ‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے لیاقت آباد سی ون ایریا میں دو روز قبل کورٹ میرج کرنے والا نوجوان پانچ منزلہ عمارت سے گر کر ہلاک ہوگیا، والد کے مطابق بیٹے کو پولیس نے عمارت سے دھکا دیا۔تفصیلات کے مطابق عمارت سے گرنے والے نوجوان کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال لائی گئی۔ اس حوالے سے ایس ایچ او سپر مارکیٹ ریاض نے بتایا کہ متوفی کی شناخت نبیل کے نام سے کی گئی جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق متوفی نے شریف آباد کی رہائشی لڑکی سے

دو روز قبل کورٹ میرج کی تھی اور اس کے خلاف لڑکی کے اہلخانہ نے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا لیکن لڑکی نے نبیل کے حق میں بیان دیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ جمعرات کی شب شریف آباد انویسٹی گیشن پولیس رہائشی عمارت کی پانچویں منزل پر نبیل کے گھر اس کے والد کا بیان لینے آئی تھی اس دوران نبیل گھر پر موجود تھا اور وہ عمارت کی چھت پر چلا گیا تاہم اس بات کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی کہ اس نے خوفزدہ ہو کر عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی ہے یا وہ اتفاقیہ طور پر گرا ہے یا پھر اسے کسی نے دھکا دیا تاہم پولیس تمام پہلوئوں پر تحقیقات کر رہی ہے۔دوسری جانب نوجوان کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ شریف آباد انویسٹی گیشن کے پولیس افسر نے ان کے گھر آنے کے بعد بیٹے کوپانچویں منزل سے دھکا دے کر قتل کیا، ایس ایس پی سینٹرل نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔والد نے بتایا کی ان کے بیٹے نبیل نے محلے میں رہائش پذیر آسیہ نامی لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی، لڑکی کے گھر والوں نے بیٹے نبیل کے خلاف شریف آباد تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی تھی، انھوں نے اپنے بیٹے نبیل کی ضمانت کروائی تھی اور 2 روز قبل بیٹے کا نکاح بھی ہو گیا تھا، پولیس افسر عامر نے ضمانت ہونے کے باوجود ہم سے 50 ہزار رشوت طلب کی اور رشوت نہ دینے پرپولیس افسر عامر ان کے گھر میں داخل ہوا اور بدمعاشی کرنا شروع کردی۔والد کے مطابق میرے بیٹے نبیل کو ڈکیتی کے جھوٹے مقدمے میں بند کرنے کی دھمکیاں دیں، پولیس افسر عامر نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، پولیس افسر انہیں اور بیٹے نبیل کو زبردستی تھانے لے جانے کی دھمکیاں دیتا رہا، اسی دوران پولیس افسر عامر نیان کے بیٹے نبیل کو دھکا دیا جو پانچویں منزل سے نیچے گر کر ہلاک ہو گیا۔انھوں نے کہا کہ انہیں انصاف چاہیے اور وہ پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج کرواکر اسے گرفتار کرائیں گے۔ دوسری جانب ایس ایس پی سینٹرل معروف عثمان نے واقعہ کا نوٹس لتے ہوئے صاف شفاف انکوائری کا حکم دے دیا۔ ایس ایس پی سینٹرل نے واقعے کی انکوائری ایس پی نیو کراچی کو سونپ دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…