پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

تحریک عدم اعتماد پر مشاورت ہورہی ہے ، عمران خان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ، شاہد خاقان عباسی کا پلٹ کر جواب

datetime 22  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر مشاورت ہورہی ہے ، عمران خان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں،موجودہ حکومت کے کرپشن کے کیسز کی انتہا نہیں اور ایک دن ضرور اس کا حساب دینا پڑے گا، ملک کے غیر قانونی اور غیر آئینی وزیر احتساب کو کو اپنے اثاثوں کا جواب دینا ہو گا،صدر ایک

آئینی عہدہ ہے ،کوئی بھی آرڈیننس آتا ہے اور دستخط کر دئیے جاتے ہیں۔منگل کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ صدر کا عہدہ ملک کا اہم عہدہ ہوتا ہے ،بدقسمتی سے صدر بھی حکومت کے ڈیلی ویج ملازم بن گئے۔ انہوں نے کہاکہ چاروں صوبوں کے آئی جیز اور ڈی جی ایف آئی اے سے درخواست ہے کہ حکومت کے غیر قانونی کام میں شریک نا ہو،یہ تو کل کو بھاگ جائیں گے مگر پریشانی اپکو ہوگی ،آپ حکومت کے ملازم ہیں۔انہوںنے کہاکہ تیسرا سال عدالتوں میں چل رہا ہے نا پراسیکیوٹر کو پتہ ہے کہ کیس کیا ہے، چیئرمین نیب بتا دیں کہ آپ نے اس ملک میں کتنے سیاست دانوں کو پڑا ہے اور اس کی وضاحت کریں، ان عدالتوں میں کیمرے لگائیں اور عوام کو دکھائیںکیونکہ نا چئیرمین بیب تھکتا ہے نا وزراء نا عمران خان تھکتا ہے، اس حکومت کے کرپشن کے کیسز کی انتہا نہیں اور ایک دن ضرور اس کا حساب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک کے غیر قانونی اور غیر آئینی وزیر احتساب کو کو اپنے اثاثوں کا جواب دینا ہو گا، ۔ انہوںنے کہاکہ صدر ایک آئینی عہدہ ہے اور وہ کوئی بھی آرڈیننس آتا ہے اور دستخط کر دیے جاتے ہیں،آرڈیننس کے تحت عوام کی آواز دبائی جا رہے ہیں، محسن بیگ کا معاملہ سب کے سامنے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ووٹ آپ کانفڈنس پر مشاورت ہو رہی ہے اب عمران خان کو گھبرانے کی ضرورت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…