پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

صحافی محسن بیگ کو اہلیہ اور وکیل شہباز کھوسہ سے ملنے کی اجازت دی جائے، عدالت نے حکم جاری کر دیا

datetime 17  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد (آن لائن) سینئیر صحافی و تجزیہ کارمحسن بیگ کے گھر سے گرفتار ہونیوالے دو ملازمین کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا گیا۔ اشفاق اور ذوالفقار کو دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی ورائچ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق وقوعہ سے متعلق تفتیش اور اسلحہ برآمد کرنا ہے لہذا استدعا کی جاتی ہے کہ ملزمان کو 3 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

یہ ملزمان موقع پر موجود تھے ان پر فائرنگ کا الزام ہے۔ وکیل ملزمان شہباز کھوسہ کا کہناتھاان کا پہلی ایف آئی آر سے تعلق نہیں،جج نے وکیل سے استفسار کیا پہلی ایف آئی آر کونسی ہے۔ وکیل ملزمان نے کہا پہلی ایف آئی آر وزیر نے محسن بیگ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج کی ہے۔یہ دونوں گھر کے ملازم ہیں پولیس نے انکو بھی گرفتار کر لیا ہے، وکیل ملزمان نے کہا محسن بیگ سے ملاقات کی اجازت کی درخواست دی ہے۔جج نے کہا ملزم سے کون ملنا چاہتا ہے؟ کونسل اور اہلیہ مل سکتی ہے باقی کوئی نہیں مل سکتا۔ وکیل ملزمان نے کہا محسن بیگ کا بیٹا بھی گرفتار ہے اس کو بھی پولیس نے لانا تھا نہیں لائے۔سینیئر صحافی محسن جمیل بیگ کی گرفتاری حکومت کی صحافت دشمن پالیسی کا تسلسل اور بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ حکومت سچائی کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے اور سچ کو سامنے لانے والے کو گرفتار کر کے ان پر دباؤ ڈالنے کی ناکام سازش میں مصروفِ عمل نظر آتی ہے لیکن با شعور عوام کو مسلسل جھوٹ بول کر طفل تسلیاں نہیں دی جا سکتی۔ معزز عدالت نے محسن جمیل بیگ کے گھر پولیس کے چھاپے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مارگلہ پولیس کے خلاف محکمانہ کاروائی کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وائس پریذیڈنٹ پی ایم ایل این لائرز فورم راولپنڈی ڈویژن ملک سعید اختر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی نا اہلی اور کرپشن کو چھپانے کے لیے میڈیا پر ناجائز دباؤ ڈال رہی ہے اور محسن جمیل بیگ کے خلاف ہونے والی کاروائی ان کی انتقامی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ محسن جمیل بیگ کا قصور صرف ایک شائع شدہ کتاب جس پر حکومت کی جانب سے کوئی پابندی بھی عاید نہیں کی گئی کا حوالہ دینا تھا۔ حکومت اگر مخلص ہے تو حوالہ دینے والے کے بجائے مصنف کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتی۔ حکومتی

بوکھلاہٹ اس بات سے بھی عیاں ہے کہ 9بجے لاہور مین ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور ساڑھے 9بجے بغیر کسی سرچ وارنٹ یا دیگر قانونی تقاضہ پورا کیے محسن جمیل بیگ کے گھر پر ایسے چھاپہ مارا جاتا ہے گو یا وہاں کوئی دہشت گردی کا کیمپ ہو۔ حکومت فوری طور پر محسن جمیل بیگ کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کو خارج کر کے انہیں رہا کرے ورنہ عدالت میں ان کے دفاع کے لیے ہر ممکن کاروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…