کوروناکو پھیلنے سے روکنے کیلئے ماسک کی افادیت کے مزید شواہدسامنے آگئے

  منگل‬‮ 18 جنوری‬‮ 2022  |  23:13

واشنگٹن (این این آئی)امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ فیس ماسک ہوا میں پھیلنے والے جراثیموں جیسے کورونا وائرس کے ذرات کا فاصلہ 50 فیصد سے زیادہ کم کردیتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سینٹرل فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ سماجی دوری کی کچھ گائیڈلائنز کو اس صورت میں ترک کیا جاسکتا ہے جب تمام افراد فیس ماسک کا استعمال کریں۔تحقیق کے مطابق نتائج سے واضح شواہد ملتے ہیں کہ بغیر فیس ماسک کے 6 فٹ کی دوری سے چہرہ ڈھانپ کر 3 میٹر کی دوری بہتر ہے۔اس تحقیق میں 21 سے 31 سال کی عمر


کے 14 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور بولنے اور کھانسی کے دوران فیس ماسک یا بغیر فیس ماسک ہر سمت سفر کرنے والے ننھے ذرات اور ایروسولز (بڑے ذرات)کے فاصلے کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی آلات کا استعمال کیا گیا۔ہر رضاکار کو چہرہ ڈھانپے بغیر، کپڑے کے فیس ماسک اور 3 تہوں والے سرجیکل ماسکس پہن کر 5 منٹ تک ایک جملے دہرانے اور کھانسنے کی ہدایت کی گئی۔فیس ماسک کے بغیر بات کرنے یا کھانسنے سے ہوا میں خارج ہونے والے ذرات ہر سمت 4 فٹ دور تک پھیلتے ہیں جبکہ کپڑے کے ماسک سے چہرہ ڈھانپنے سے یہ ذرات 2 میٹر اور سرجیکل ماسک کے استعمال سے 6 انچ دور تک جاتے ہیں۔محققین نے بتایا کہ وبائی امراض کے ہوا سے پھیلنے کی شرح میں کمی لانے سے لوگوں کو محفوظ رکھنے اور کووڈ و دیگر امراض کے خلاف موثر ردعمل میں مدد مل سکے گی۔


زیرو پوائنٹ

مقام فیض کوئی

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎