جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

طالبان کابل میں داخل نہ ہونے پر راضی تھے لیکن اپنے وعدے سے پھر گئے، اشرف غنی بھی بول پڑے

datetime 30  دسمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن(آن لائن ) افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے رواں سال کے آ غاز میں طالبان کی آمد کے ساتھ ہی ملک سے فرار ہونے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ کام کابل کی تباہی کو روکنے کے لیے کیا تھا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ طالبان جنگجو کابل میں داخل نہ ہونے پر راضی ہوگئے تھے لیکن دو گھنٹے بعد ہی وہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔

اشرف غنی نے کہا کہ طالبان کے دو مختلف دھڑے دو مختلف سمتوں سے قریب آ رہے تھے اور ان کے درمیان بڑے پیمانے پر تصادم کا امکان تھا جو 50 لاکھ کے شہر کو تباہ کرسکتا تھا۔ افغانستان کے سابق صدر نے اپنے بہت سے قریبی لوگوں کو کابل چھوڑنے کی اجازت دینے پر آمادگی کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کابل چھوڑنے پر خوش نہیں تھی اور ان کے نیشنل سیکیورٹی کے مشیر کارلینے کے گئے لیکن کار لے کر نہیں آئے بلکہ جب واپس آئے تو بہتر گھبرائے ہوئے تھے اور انہوں نے کہا کہ ’اگر طالبان کے سامنے کھڑے ہوئے تو سب ماردیے جائیں گے‘۔ اشرف غنی نے کہا کہ انہوں نے مجھے دو منٹ سے زیادہ وقت نہیں دیا، میری ہدایات یہ تھیں کہ خوست ’شہر‘ کے لیے روانگی کی تیاری کروں لیکن بتایا گیا کہ خوست اور جلال آباد پر طالبان کا قبضہ ہے۔ افغانستان کے سابق صدر نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ہم کہاں جائیں گے، جب ہم نے ٹیک آف کیا تو یہ واضح ہو گیا کہ ہم افغانستان چھوڑ رہے ہیں، یہ واقعی اچانک تھا۔ انہوں نے کہاکہ میں واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں، میں نے کوئی پیسہ ملک سے باہر نہیں لیا، میرا طرز زندگی سب کو معلوم ہے، میں پیسے کا کیا کروں گا؟اشرف غنی نے اعتراف کیا کہ غلطیاں ہوئیں، بشمول ’یہ فرض کرنا کہ عالمی برادری کا صبر قائم رہے گا‘۔علاوہ ازیں انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کی طرف اشارہ کیا، جس نے 15 اگست کو ہونے والے واقعات کی راہ ہموار کی۔انہوں نے کہا کہ امن کے عمل کے بجائے ہمیں انخلا کا عمل ملا، جس طرح سے معاہدہ ہوا، ہمیں مٹا دیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…