بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

فوج کو پورے پاکستان کی حفاظت کرنے کا کہا گیا ہے سپریم کورٹ نے عسکری پارک سے متعلق تہلکہ خیز حکم جاری کردیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)سپریم کورٹ نے کراچی میں پرانی سبزی منڈی پر 17 ایکڑ پرمحیط عسکری پارک واپس بلدیہ عظمی کراچی کو دینے کا حکم دیا ہے۔پیرکوسپریم کورٹ رجسٹری میں عسکری پارک میں کمرشل سرگرمیوں اور شادی ہال بنانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت میں کور فائیو کی جانب سے لیفٹننٹ کرنل زبیر رپورٹ پیش کردی گئی جس میں بتایا گیا کہ عسکری پارک میں شادی

ہالز کو بند کردیا گیا ہے۔عسکری پارک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دفاعی ادارے کو معاہدے کے تحت پارک دیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارک کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ کو پارک اس لیے دیا گیا تھا تا کہ کوئی قبضہ نہ ہو۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فوج کو پورے پاکستان کی حفاظت کرنے کا کہا گیا ہے۔ کیا عسکری پارک کمرشل سرگرمیوں کیلئے دیا گیا تھا؟۔عسکری پارک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پارک سے کمرشل سرگرمیاں ختم کردی ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابھی آپ سے حساب مانگ لیں گے تو آپ کیا کریں گے ؟۔ عسکری پارک سے ابھی تک کتنا پیسہ کمایا ہے؟۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ دیکھیں آرمی کو تنازعات سے دور رکھیں ،پارک بلدیہ عظمی کراچی کی ملکیت ہے،واپس کیا جائے۔سپریم کورٹ نے بلدیہ عظمی کراچی (کے ایم سی)کو پارک بحال کرکے شہریوں کیلئے کھولنے کی ہدایت کی۔عدالت نے عسکری پارک سے متعلق ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سے استفسار کیا کہ جی ایڈمنسٹریٹر صاحب بتائیں، اس پر

ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ رپورٹ فائل کردی گئی ہے، 2005 میں ایگریمنٹ ہوا تھا،وکیل دفاع نے عدالت میں کہاکہ یہ 99 سال کا ایگریمنٹ ہوا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارک آپ کو اس لئے دیا تھا کوئی اور قبضہ نہ کرلے، پاکستان کی حفاظت کا کہا تھا، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ملک کیلئے آپ لوگ جانیں بھی دے رہے ہیں ہم قدر کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے

کہا کہ سیکریٹری دفاع نے جو رپورٹ واپس لی وہ آپ دوبارہ پیش کر رہے ہیں، وہاں جھولے چل رہے ہیں، بچے گر کر مر رہے ہیں، کیسے جھولے لگائے ہیں وہاں؟ آپ نے خود تسلیم کیا شادی ہال چل رہا تھا، آپ کے ہوتے ہوئے 38 دکانیں بنی ہوئی ہیں، وکیل دفاع نے کہا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لیفٹیننٹ کرنل زبیر کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، رپورٹ میں بتایا

گیا کہ عسکری پارک کی زمین پر بنائی گئی دکانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی پارک کا انتظام سنبھالیں اور پارک عوام کیلئے استعمال کیا جائے، عوام سے اس سے متعلق کوئی چارجز وصول نہ کئے جائیں،پارک کی زمین پر شادی ہال کی عمارت بھی کے ایم سی ختم کرائے، پارک کی زمین پر بنائی گئی دکانیں بھی ختم کی جائیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ دو ہفتوں میں عسکری پارک کے ایم سی کے حوالے کیا جائے، جھولے وغیرہ کے ایم سی اپنے لگائے، ان کے واپس کردیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…