جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ نے طالبان، حقانی نیٹ ورک کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کا راستہ نکال لیا

datetime 26  دسمبر‬‮  2021 |

واشنگٹن (این این آئی )امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے تین جنرل لائسنس سے امریکی حکومت کے عہدیداران اور بین الاقوامی ایجنسیوں کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ سرکاری سطح پر بات چیت اور معاملات طے کرنے کی اجازت ملے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق محکمہ خزانہ کے فارن ایسٹس کنٹرول آفس (او ایف اے سی)سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ

سرکاری سطح پر بات چیت اور معاملات کیسے آگے بڑھائے جاسکتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ جنرل لائسنس 17 طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تمام لین دین اور سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے جو کہ کچھ شرائط کے ساتھ امریکی حکومت کے ملازمین، گرانٹیز یا کنٹریکٹرز کے ذریعے امریکی حکومت کے سرکاری کاروبار کے لیے ہوتے ہیں۔اسی طرح جنرل لائسنس 18 طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تمام لین دین اور سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے جو کہ کچھ شرائط کے ساتھ مخصوص بین الاقوامی تنظیموں اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ملازمین، گرانٹیز یا کنٹریکٹرز کے ذریعے امریکی حکومت کے سرکاری کاروبار کے لیے ہوتے ہیں۔جنرل لائسنس 19 طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تمام لین دین اور سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے جو بعض شرائط کے ساتھ عام طور پر غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)کی سرگرمیوں کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ان شرائط میں بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انسانی ہمدردی کے منصوبوں میں مدد، قانون کی حکمرانی، شہریوں کی شرکت، حکومتی احتساب اور شفافیت کی حمایت کے لیے سرگرمیاں شامل ہیں۔انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، معلومات تک رسائی اور سول سوسائٹی کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والی تنظیموں کو بھی امریکا اور دیگر ذرائع سے امداد حاصل کرنے کی اجازت ہے۔اس استثنی کا اطلاق تعلیم، افغان عوام کو براہ راست فائدہ پہنچانے والے غیر تجارتی ترقیاتی منصوبوں اور ماحولیاتی اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر بھی ہوتا ہے۔یاد رہے کہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں انسانی امداد کی ترسیل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی تھی۔قرارداد میں فنڈز، دیگر مالیاتی اثاثوں یا اقتصادی وسائل کی ادائیگی اور ایسی امداد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے یا ایسی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے ضروری سامان اور خدمات کی فراہمی کی اجازت دی گئی ہے۔واضح رہے کہ 15 اگست کو طالبان کے قبضے کے بعد بین الاقوامی برادری نے افغانستان کے اثاثے منجمد کر دیے تھے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ طالبان کو فنڈز تک رسائی نہ ہو، تاہم اس اقدام سے افغان معیشت تباہی کے قریب پہنچ گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…