بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

کرونا وباء کی روک تھام کیلئے366ملین ڈالر کی دی جانے والی امداد میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف

datetime 23  دسمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)عالمی امدادی اداروں کی طرف سے کرونا وبا کی روک تھام کیلئے366ملین ڈالر کی دی جانے والی امداد میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف،ناقص کارکردگی پرعہدے سے ہٹائے جانے والے وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا اپنی کوتاہیوں پردہ ڈالنے کیلئے غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی نجی این جی او(فافن)کے تعاون

سے ہیلتھ رپورٹز پر مہربان ،فائیو سٹاز ہوٹلز میں قیام و طعام کے بدلے ناکام پروگرام کو کامیاب ظاہر کرنے کی درخواستیں کرتے رہے۔تفصیلات کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 2020-21 کی تیار کردہ اپنی آڈٹ رپورٹ میں بتایاہے کہ عالمی امدادی اداروں کی طرف سے کرونا سے بچاو کیلئے آلات و ویکسین کی خریداری و تیاری کیلئے حکومت پاکستان کو کل366ملین ڈالرز کا مالی تعاون فراہم کیا گیا۔تا ہم وفاقی وزارت صحت و ذیلی اداروں کی عدم توجہی کے سبب مختلف آلات کی خریداری میں اضافی ادائیگیوں کے سبب کروڑوں روپے کا غبن سامنے آیا ہے۔وزارت صحت و ذیلی ادارے(سنٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ) امدادی بجٹ سے مذکورہ آلات کی کی گئی خریداریوں کی تفصیلات اکھٹے کرنے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔جبکہ آڈیٹر جنرل کے سوال پر سنٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مذکورہ آلات وزارت قومی صحت کے سٹورز میں رکھے گئے ہیں۔جبکہ وزارت صحت کی طرف سے آڈیٹر جنرل کے سوال پر جواب دیا گیا ہے کہ وزارت

قومی صحت کے پاس آلات رکھنے کا کوئی گودام یا سٹور سرے سے موجود ہی نہیں۔آدیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ظفر مرزا اینڈ کمپنی نے سستے ریٹس پر آلات جن میں فیس ماسک،دستانے،ٹریک سوٹ،ہیڈ کوور،شو کوور اورگا?نز ارزاں نرخوں پر دستیابی کی آفر کے

باوجود اپنے من پسند ڈیلرز جن میں کمپولوجک بلیو ایریا،شیگا ٹریڈرز راولپنڈی اورالحکیم انٹرپرائزز راولپنڈی سے مہنگے داموں پر خرید کئے گئے مذکورہ آلات کی خریداری کی رسیدیں تو فائلوں کا پیٹ بھرنے کیلئے موجود ہیں تا ہم یہ سامان کہاں سٹاک کیا گیا اس کاسرے سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔آن لائن کی طرف سے رابطہ کرنے پر سابق معاون خصوصی برائے صحت ظفرمرزا

نے موقف اپنایا کہ سامان کی خریداری کی ذمہ داری سیکرٹری ہیلتھ کی تھی میری نہیں۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہیلتھ رپورٹرز کوفائیو سٹار ہوٹل میں کرونا پر بریفنگ کے انہوں نے پیسے لئے ہیں۔انہیں اگر پرائیویٹ سیکٹر سے کوئی آفر ملے گی تو وہ کیونکر چھوڑیں گے۔کرونا وبا کے نام پر اربوں روپے کے خسارے کا سبب بننے والے وزیر اعظم پاکستان کے سابق معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا زیرو کارکردگی پر عہدے سے دھتکارے جانے کے باوجودکو غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی او فافن کی طرف سے ہیلتھ رپورٹرز کو لیکچرز دلوانے بابت پوچھے گئے سوال پر ترجمان فافن طارق نے درخواست کی کہ اس معاملے کو چھوڑیں، اس میں کیا رکھا ہے۔نقصان اگر ہوا ہے تو وزارت صحت کا ہوا ہے فافن یا میڈیا کا اس سے کیا لینا دینا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…