آڈیو کو ایڈٹ کیا گیا اور کئی کلپس کو جوڑ کر بنایا گیا، امریکی کمپنی نے ثاقب نثار کی مبینہ لیک آڈیو کی حقیقت بتا دی

  بدھ‬‮ 15 دسمبر‬‮ 2021  |  15:51

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، اے پی پی)نجی چینل نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی لیک آڈیو کا فرانزک کراکر حقیقت آشکار کردی اورامریکی کمپنی” پریمو فرانزک” نے تصدیق کی ہے کہ اس آڈیو کو ایڈٹ کیا گیا ہے اور کئی آڈیو کلپس کو جوڑ کر بنایا گیا ہے، روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق  کمپنی کی جانب سے کہا گیا یے کہ لیک آڈیو ایک سے زیادہ

سورسز جوڑ کر بنائی گئی ہے، آڈیو کے دو حصے مختلف ماحول میں ریکارڈ کئے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی فرانزک کمپنی پریمو فرانزک کا گزشتہ 30 سالہ وڈیو اور آڈیو کی فرانزک کا تجربہ ہےاور اس نے 5 ہزار آڈیو، وڈیو اور تصاویر کی فرانزک انویسٹی گیشن کی ہے اور 500 مقدمات میں مقامی، حکومتی اور وفاقی عدالتوں میں ماہرانہ رائے فراہم کی ہے۔ امریکہ کی مختلف ریاستوں امریکی چینل، ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر بڑے ادارے اس کے کلائنٹس میں شامل ہیں۔اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کی فرانزک سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دو مختلف ریکارڈنگز کو ایک ساتھ ملایا گیا ہے جو کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مختلف اداروں پر حملے اور جعلسازی کا تسلسل ہے، (ن) لیگ نے کیلبری فونٹ ، آڈیو اور جج شمیم کے بیان حلفی سے فائدہ لینے کی کوشش کی ہے، وہ اصل سوال کا

جواب نہیں دیتے بلکہ جعلسازیاں کرتے ہیں۔مریم نواز اس آڈیو کی بنیاد پر روز کہتی ہیں کہ انہیں بری کردیا جائے، عدالت میں یہ کچھ پیش نہیں کرتے صرف آڈیو یا خبریں عوام میں پھیلا دیتے ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ جس طرح کیلبری فونٹ عدالت میں پیش کیا اور انہیں سزا ملی اسی طرح اب بھی کچھ عدالت میں پیش کریں گے توسزا ملے گی، عدلیہ اور دیگر اداروں کو ڈرانےکیلئے اس طرح کوششیں کی جا رہی ہیں۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎