منگل‬‮ ، 12 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’پورے ملک میں آگ لگی ہے یہ بیٹھ کر بانسری بجا رہا ہے‘‘ خواجہ آصف نے عمران خان پر تنقید کے نشتر برسا دیے

datetime 3  دسمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے کے خلاف وفاقی اساتذہ کا جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ،تین دن سے وفاقی دارلحکومت کے 390 سکولز بند ہونے کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔اپوزیشن رہنماؤں کی اساتذہ سے اظہار یکجہتی ، بے حس حکمران جماعت کا کوئی نمائندہ

اساتذہ کی بات سننے نہیں آ سکا۔ جمعرات کو ہزاروں کی تعداد میں سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین نے پریس کلب کے باہر جمع ہور کر وزیراعظم ہاؤس کی جانب ریلی نکالی،مظاہرین ڈی چوک پر پولیس کی طرف سے لگائی گئی خاردار تاریں ہٹا کر پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے تک پہنچ گئے۔تفصیلات کے مطابق آرڈیننس کے ذریعے وفاق کے 390کے قریب تعلمیی اداروں کو میئر کے ماتحت کرنے کے لیے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے خلاف وفاقی اساتذہ نے شدید احتجاج کیا ہے مظاہرین کی قیادت فیڈرل گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک امیر خان اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین فضل مولا نے کی، اس دوران مظاہرین کے ہمراہ نان تدریسی ملازمین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے، اساتذہ نے آرڈیننس نا منظور،تعلیمی اداروں کی تباہی نامنظور اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر قائدین نے تقاریر کیں اور آرڈیننس کی واپسی تک احتجاجی سلسلہ جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف بھی پہنچ گئے اور اپنے خطاب میں کہا کہ یہ آرڈیننس کے ذریعے حکومت کر رہے ہیں،اس آرڈیننس کے ذریعے اساتذہ کو ان لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جن کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے،ہم آپکے تمام مطالبات ہر فورم پر اٹھائیں گے،قومی اسمبلی اجلاس میں ہم اس آرڈیننس کے خلاف تمام تراقدامات اٹھائیگی،ہم متحدہ اپوزیشن اس آرڈنیس کے خلاف تمام تر اقدامات ضرور اٹھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے،ملک جل رہا ہے اور عمران خان بانسری بجا رہے ہیں،لوگ اپنے گردے بچے بیچ رہے ہیں۔یہ لاکھوں کروڑوں نوکریوں کی باتیں کرتا تھا اس نے بے روزگاری پیدا کی۔16 ہزار ملازمین کو بے روزگار کر دیاگیا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ آپکے ووٹ کی عزت ہو تاکہ آپکی نمائندگی ہو۔2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی،عوام کی رائے کو سلب کرنے سے ایسے حکمران آتے ہیں۔اس حوالے سے نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے بھی ٹویٹ کیا اور کہا کہ ڈی چوک اور پارلیمنٹ کے باہر 126 دن مظاہرے کرنے والے آج پرامن اساتذہ کو روک رہے ہیں،حکمران نہ مہنگائی کم رہے، نہ لوگوں کے مسائل حل کر رہے نا ہی ان کو پرامن احتجاج کا حق دے رہے ہیں، یہ حکومت کسی کے بھی جائز مطالبات سننے کو تیار نہیں ہے،یہ آمرانہ رویہ ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



موسمی پرندے


’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…