کراچی (آن لائن) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ زوہیر خودکشی کر رہا تھا اورصدر پاکستان گورنر ہائوس میں اپنے بیٹے کی ملٹی نیشنل کمپنی سے بزنس ڈیل کروا رہے تھے۔ قوم کے نوجوان طویل بیروزگاری اور ابتر معاشی مسائل سے تنگ آکر خودکشی کر رہے ہیں اور حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی دور حکومت میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر ناکامی کی مہر ثبت کر دی ہے۔ زوہیر کی خودکشی ایک فرد کی موت نہیں بلکہ ایک کنبے کی، معاشرے کی اور ریاست کی موت ہے۔وزیر اعظم عمران خان اور کتنے لوگوں کی خودکشی کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کا معاشی نظام عوام کے حق میں مکمل طور پر فیل نظام ہے؟ ناکام حکومتی معاشی پالیسیوںکے نتیجے میں مہنگائی کے ستائے ہوئے پریشان حال عوام حالات سے ناامید ہو کر خودکشی کرنے کے بجائے ظلم اور ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں بیروزگاری اور معاشی حالات سے تنگ آکر خودکشی کرنے والے نوجوان زوہیر کی المناک موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ زوہیر جیسے پڑھے لکھے ،قابل لیکن معاشی طور پر پریشان حال کنبے ملک کے ہر علاقے میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ حکمران اقتدار کے ایوانوں میں میٹھی نیند سوتے ہیں اور عوام مسائل کا حل تلاش کرتے کرتے تنگ آکر خودکشیاں کرتے ہیں۔ زوہیر نے اپنی جان دے کر سرمایہ دارانہ نظام کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ رسید کیا ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی حکومت کو وارننگ دیتی ہے کہ وہ آئی ایم ایف اور بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر ناچنا اور معاشی پالیسیوں پر چلنا بند کر دے۔ آئی ایم ایف و ورلڈ بینک کے ایجنٹوں اورنوکروں کو دیس نکالا دیا جائے۔
حالات میں سدھار نہ لایا گیا توآج زوہیر نے حالات سے تنگ آکر خودکشی کی ہے کل کوئی اور زوہیر خودکشی کرے گا، یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ اس اندھیر نگری چوپٹ راج کا خاتمہ کرنے کے لئے نوجوان عزم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں۔ ملک میں قدرتی وسائل اور معدنیات کی بھرمار ہے، زرعی اجناس کی پیداوار ہے، انہیں استعمال میں لایا جائے۔ محب وطن اور عوام کا درد رکھنے والے معاشی ماہرین کی ٹیم بنائی جائے جو ملکی حالات اور
زمینی حقائق سے باخبر ہوں۔ وزیر اعظم عمران خان ہوش کے ناخن لیں، آپ کے تین سالہ دور حکومت میں آپ کی ٹیم میں شامل وزراء اور مالیاتی مشیر ملکی نظام کو تہس نہس کر چکے ہیں۔ نوجوانوں میں مایوسی اور ڈپریشن بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سے قبل کی صورتحال بدترین ہوجائے ، وزیر اعلی سندھ ،چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان اب تو ہوش کے ناخن لیں۔ نئی نسل کا مستقبل اور زندگیاں خطرے میں ہیں۔ پاسبان مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے دکھوں کا مداوا بھی کرے گی۔