مبینہ آڈیو کلپ معاملہ ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپیل

  منگل‬‮ 23 ‬‮نومبر‬‮ 2021  |  15:40

لاہور، اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی)سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اسلام آبادہائیکورٹ کو آڈیو لیکس کے معاملے پر نوٹس لینا چاہئے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری تقاریر کو جوڑ کر جعلی آڈیو کلپ جاری کیا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں رانا شمیم سے متعلق کیس چل رہا ہے۔ آڈیو کلپ معاملے کو بھی کیس کا حصہ

بنایا جائے۔ سابق چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پینل کوڈ کے تحت اس معاملے کو بھی سننا چاہئے،ہائیکورٹ کو چاہئے کہ اس معاملے کو دیکھے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار کی تردید پر اپنا ردعمل جاری کرتے ہوئے اللہ اکبر لکھا ۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں مریم نواز نے اللہ اکبرلکھا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار سے منسوب ایک آڈیو کلپ سامنے آئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کی جگہ بنانے کیلئے نواز شریف کو سزا دینی ہوگی۔آڈیو ٹیپ میں وہ مبینہ طور پر تسلیم کر رہے ہیں کہ مریم نواز کو سزا دینی ہوگی اگرچہ مریم نواز کے خلاف کوئی کیس نہیں۔دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ امریکی فرانزک کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ آواز ثاقب نثار ہی کی ہے، ایک دن حق اور سچ سامنے آکر ہی رہتا ہے۔مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف، مریم کی سزا عدل کے ہر پیمانے کے مطابق ختم ہوچکی ہے، امریکی کمپنی نے آواز کے حقیقی اور درست ہونے کا سائنسی تجزیہ کیا ہے، امریکی کمپنی نے تصدیق کی کہ آواز ثاقب نثار ہی کی ہے، اعمال نامہ حاضر ہے جناب کا، گناہ پرعذر پیش کرنا بدترین گناہوں میں سے ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎