پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

دنیا میں قرضے گروتھ بڑھانے ہمارے ہاں بد قسمتی سے پرانا قرضہ اتارنے پر استعمال ہو جاتے ہیں، قرضوں کے چنگل سے نکلنے کا طریقہ بتا دیا گیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصا ف کے سینئر مرکزی رہنماو سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ قرضوں کے چنگل سے باہر نکلنے کیلئے بڑے پیمانے پر سٹرکچر ل ریفارمز کی ضرورت ہے اورحکومت اس طرف پیشرفت کر رہی ہے ،

دنیا میں قرضے گروتھ بڑھانے کیلئے لئے جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں بد قسمتی سے نئے قرضے پرانا قرضہ اتارنے پر استعمال ہو جاتے ہیں ،امید ہے اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں دوبارہ جلد کمی کرے گا۔ اپنے ایک بیان میں ہمایوں اختر خان نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے معیشت کومضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لئے قطعی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے اور اس سے پیدا ہونے والا بیگاڑ چیلنج بن گیا ہے ۔ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ خود انحصار ی کی طرف بڑھا جائے اوراس کیلئے اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو کہا جاتا ہے کہ حکومت نے گزشتہ حکومتوں سے زیادہ قرضہ لے لیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ ہم اپنے دور میںقرضوں کا کتنا پہاڑ چھوڑ کر گئے تھے ۔ اگرہم نے اپنی معیشت کوپائوں پرکھڑا کرنا ہے اور قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے تو ملک میں بڑے پیمانے پر سٹرکچرل ریفارمز کی ضرورت ہے ۔ ہمایوںاخترخان نے کہا کہ دنیا بھر میں گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے جن غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کئے گئے تھے وہ اپنے بیعانے ضبط کر اکے نئی قیمتوںپر گیس فروخت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس میں فائدہ ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ عوام دنیا کے رجحانات اور وہاں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہیں اس لئے اپوزیشن کے منفی پراپیگنڈا کا اسے سیاسی طو رپر کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…