بابر اعظم کے مداحوں کے گوگل پر پوچھے گئے سوالوں کے دلچسپ جوابات ، شائقین کومحفوظ کر دیا

  پیر‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2021  |  0:09

اسلام آباد(این این آئی)قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے مداحوں کی جانب سے گوگل پر سب سے زیادہ پوچھے گئے سوالوں کے دلچسپ جوابات دیکر مداحوں کو محظوظ کردیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل ٹوئٹر اکائونٹ پر قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہےجس میں وہ گوگل پر سرچ کیے گئے سب سے زیادہ سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔پہلے سوال کے جواب میں بابر اعظم نے بتایا کہ میں لاہور میں رہتا ہوں جو اپنے مزیدار کھانوں کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ دوسرے سوال کے جواب میں قومی ٹیم


کے کپتان کا کہنا تھا کہ میں گرے نکل بیٹ استعمال کرتا ہوں۔مایہ ناز بلے باز نے مزید بتایا کہ عمومی طور پر اپنے ساتھ 6-7 بیٹ لیکر جاتا ہوں۔ بیٹ کا وزن 2.8 سے 2.9 پائونڈ کے درمیان ہوتا ہے اور جس ملک میں میچ کھیلا جا رہا ہے اس کی کنڈیشن کے اعتبار سے بیٹ استعمال کرتا ہوں۔تیسرا سب سے زیادہ سرچ کیا جانے والا سوال ان کی آمدنی سے متعلق تھا جس سے کپتان بابر اعظم نے بڑی ہوشیاری سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو میں بتائوں گا نہیں البتہ یہ آپ کی سوچ سے کم ہے۔شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بابر اعظم نے پنجابی لہجے میں جواب دیا کہ ’’اے تو مینوں بی نئیں پتہ’’ یہ گھر والوں کو معلوم ہے اور ابھی فی الحال میری ساری توجہ کرکٹ پر ہے اور کرکٹ ہی انجوائے کرنے دیں۔آخری سوال تھا کہ بابر اعظم کا آئیڈیل کون ہے جس کے جواب میں انھوں نے جنوبی افرقیہ کے کھلاڑی اے بی ڈی ویلیئر کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شروع سے اے بی ڈی ویلیئر کو پسند کرتا آیا ہوں اور ان کے انداز کو کاپی بھی کیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم اپنے بچوں کے قاتل ہیں

میرے بیٹے نے چند دن پہلے مجھ سے ایک عجیب سوال کیا‘ اس نے پوچھا ’’آپ نے کبھی سوچا آپ کے بچے آپ کی عزت کیوں کرتے ہیں‘‘ میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’دنیا کے تمام بچے اپنے والدین کی عزت کرتے ہیں‘ میں باپ ہوں اور باپ کی حیثیت سے مجھے عزت کی سہولت (Privilege) حاصل ہے‘‘ ....مزید پڑھئے‎

میرے بیٹے نے چند دن پہلے مجھ سے ایک عجیب سوال کیا‘ اس نے پوچھا ’’آپ نے کبھی سوچا آپ کے بچے آپ کی عزت کیوں کرتے ہیں‘‘ میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’دنیا کے تمام بچے اپنے والدین کی عزت کرتے ہیں‘ میں باپ ہوں اور باپ کی حیثیت سے مجھے عزت کی سہولت (Privilege) حاصل ہے‘‘ ....مزید پڑھئے‎