جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

نبی کریم ؐ پوری انسانیت کے لئے سراپا رحمت ہیں،نبی آخر الزمان ؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو نے میں ہی کامیابی ہے، وزیراعظم

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ نبی کریم ؐ پوری انسانیت کیلئے سراپا رحمت ہیں،نبی آخر الزمان ؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو نے میں ہی کامیابی ہے، رحمت للعالمین اتھارٹی کے قیام سے اسلامو فوبیا سمیت مسلم امہ کو درپیش عصری چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ وہ جمعرات کو رحمت اللعالمینؓ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے مسلم ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کررہے تھے۔

ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے سفیروں کو رحمت للعالمین اتھارٹی کے وژن اور اغراض و مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نبی کریم ؐ پوری انسانیت کیلئے سراپا رحمت ہیں، آپ ؐ نے اسلام کے آفاقی پیغام کو پوری دنیا تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف ، قانون کی حکمرانی ، عوام کی فلاح و بہبود اور علم کے حصول پر خصوصی توجہ ریاست مدینہ کے بنیادی اصول تھے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی ترقی اور سماجی بہبود کے حصول کیلئے حضور نبی کریم ؐ کی تعلیمات کافہم اور عملی زندگی میں ان کانفاذ ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رحمت للعالمین اتھارٹی کے قیام کابنیادی مقصد اجتماعی تحقیق کے ذریعے نوجوانوں کو اسوہ حسنہؐ کے تمام پہلوئوں سے روشناس کرانا ، سوشل و ڈیجیٹل میڈیا کے متنوع اثرات کی زد میں آئے ہوئے اسلامی تشخص، اقدار اور ثقافت کے تحفظ کیلئے ضروری مدد فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رحمت للعالمین اتھارٹی دنیا بھر میں اسلامی سکالرز کے ساتھ رابطہ کرے گی ، ان سے مسلمان نوجوانوں کو درپیش عصری مسائل پر تبادلہ خیال کیاجائیگا اور اس اتھارٹی کے قیام سے جدید چیلنجز بالخصوص اسلامو فوبیا کے حوالے سے مربوط ،منطقی اور علمی رد عمل دینے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے اسلام کے اصولوں اور حقیقی تعلیمات کے مطابق مسلم نوجوانوں کی کردار سازی کے لئے سکولوں میں اخلاقیات کی تعلیم دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔

انہوں نے نوجوان نسل کی شخصیت سازی اورطرز زندگی پر اثر انداز ہونے والے پرنٹ ، ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیاکی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیراعظم نے مسلم ممالک کے سفیروں کو دعوت دی کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے تعمیری خیالات اور آرا بھی پیش کریں ۔ انہوں نے اس توقع کااظہار کیاکہ اس مقصد کیلئے نہ صرف حکومتی سطح

پر بلکہ مسلم ممالک کے دانشوروں اور علم سے وابستہ ماہرین کے مابین بھی موثر اشتراک عمل میں لایاجا سکے۔سیشن میں شریک سفیروں نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام اور وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ہر بین الاقوامی فورم پر مسلم امہ کو درپیش مسائل اجاگرکرنے اور ان کی آواز بلند کرنے کو بھی سراہا اور اس سلسلہ میں اپنے ہر ممکن تعاون کایقین دلایا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…