جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

عدالت کو سیاسی نظام کی تبدیلی کا حکم دینے کا اختیار نہیں، سپریم کورٹ

datetime 27  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے سے متعلق درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئین میں عدالت کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کا حکم دے۔پیر کو جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے احمد رضا قصوری کی صدارتی نظام رائج کرنے سے

متعلق درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کیا درخواست گزار اس معاملے میں متعلقہ ہیں بھی کہ نہیں اور کیا یہ درخواستیں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کوئی ٹھوس بات کرتی بھی ہیں کہ نہیں؟بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ملک میں طاقتور سیاسی جماعتیں موجود ہیں ان کی موجودگی میں درخواست گزار کو یہ ضرورت کیوں پیش آئی جس پر احمد رضا قصوری نے کہا کہ سیاستدان اگر ملک کے مفاد اور فلاح کا نہیں سوچتے تو کیا میں بھی خاموش ہو جاؤں؟درخواست گزار نے کہا کہ جن لوگوں نے آئین پاکستان بنایا ان میں واحد زندہ شخص میں اس وقت ملک میں موجود ہوں۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آئین کی دفعہ 46 کے تحت وزیراعظم ریفرنڈم کے لیے معاملہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھتے ہیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ ابھی تک وزیراعظم یا پارلیمان کے سامنے آیا بھی ہے کہ نہیں، کیا صدارتی نظام رائج کرنے کے لیے صرف فرد واحد کی خواہش چاہیے؟جس پر احمد رضا قصوری نے کہا کہ میں فرد واحد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہوں۔جسٹس منیب اختر نے احمد رضا قصوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آئین بن رہا تھا اور آپ رکن پارلیمنٹ تھے اس وقت آپ نے پارلیمانی نظام حکومت کی مخالفت کیوں نہیں کی؟

جس پر احمد رضا قصوری نے کہا کہ میں نے تو اس وقت بھی آئین کے دستاویز کی مخالفت کی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ تو پھر آپ خود کو کیسے آئین بنانے والوں میں شمار کر رہے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کی درخواست میں سیاسی سوال ہے جو عدالت سے متعلقہ نہیں۔احمد رضا قصوری نے کہا کہ انہوں نے ملک کو

1971 میں دولخت ہوتے دیکھا ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ عدالت کو غیر متعلقہ معاملات میں مت اْلجھائیں۔عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے صدارتی نظام کے خلاف درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے دیں۔عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ آئین کی بنیاد پارلیمانی نظام ہے، آئین میں عدالت کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کا حکم دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…