جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تاجک اور پشتونوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی کوششیں شروع

datetime 18  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تاجک اور پشتونوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔تاجک صدر سے ملاقات میں وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ذرائع کے مطابق دوشنبے میں گزشتہ روز ہوئی ملاقات میں وزیرِ اعظم عمران خان نے تاجک صدر کو یقین دلایا کہ وہ طالبان پر زور دیں گے کہ طالبان

سے محاذ آرائی نہ کرنے والے تاجک رہنمائوں کو افغان حکومت میں نمائندگی دی جائے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے تاجک صدر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنج شیر میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی جاری رکھی جائے۔دونوں رہنمائوں کی ملاقات میں افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری پشتونوں اور تاجک برادری میں کشیدگی ختم کرانے پر اتفاق بھی ہوا۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتے،افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت مشترکہ حکومت ہے، طالبان نے گزشتہ 20 برسوں میں بہت کچھ سیکھا ہے اور تبدیل ہوئے ہیں، افغانستان میں افراتفری اور انسانی بحران سے تمام ہمسائے متاثر ہوں گے۔روسی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں جو کچھ صدر بائیڈن نے کیا وہ سمجھداری کا فیصلہ تھا، تاہم امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایس سی او سربراہی اجلاس میں افغانستان کے تقریباً تمام ہمسائیہ ملک شریک ہیں،

پورے خطے کے لیے اس وقت افغانستان سب سے اہم موضوع ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے، افغانستان 40 سال کی جنگی صورت حال کے بعد استحکام کی طرف بڑھے گا۔عمران خان نے کہا کہ افغانستان غلط سمت گیا تو افراتفری، انسانی بحران، پناہ گزینوں کے بڑیمسائل پیدا ہوسکتے ہیں، افغانستان میں افراتفری اور انسانی بحران جیسا مسئلہ

پیدا ہونے سے سارے ہمسائے متاثر ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے نکتہ نظر سے افغان سرزمین سے دہشتگردی کا بھی خطرہ ہے، پہلے سے ہی تین دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کروارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت ایک مشترکہ حکومت ہے۔عمران خان نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کے خلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں، طالبان نے گزشتہ 20 سال میں بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ تبدیل ہوئے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…