پیر‬‮ ، 12 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تاجک اور پشتونوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی کوششیں شروع

datetime 18  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تاجک اور پشتونوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔تاجک صدر سے ملاقات میں وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ذرائع کے مطابق دوشنبے میں گزشتہ روز ہوئی ملاقات میں وزیرِ اعظم عمران خان نے تاجک صدر کو یقین دلایا کہ وہ طالبان پر زور دیں گے کہ طالبان

سے محاذ آرائی نہ کرنے والے تاجک رہنمائوں کو افغان حکومت میں نمائندگی دی جائے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے تاجک صدر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنج شیر میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی جاری رکھی جائے۔دونوں رہنمائوں کی ملاقات میں افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری پشتونوں اور تاجک برادری میں کشیدگی ختم کرانے پر اتفاق بھی ہوا۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتے،افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت مشترکہ حکومت ہے، طالبان نے گزشتہ 20 برسوں میں بہت کچھ سیکھا ہے اور تبدیل ہوئے ہیں، افغانستان میں افراتفری اور انسانی بحران سے تمام ہمسائے متاثر ہوں گے۔روسی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں جو کچھ صدر بائیڈن نے کیا وہ سمجھداری کا فیصلہ تھا، تاہم امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایس سی او سربراہی اجلاس میں افغانستان کے تقریباً تمام ہمسائیہ ملک شریک ہیں،

پورے خطے کے لیے اس وقت افغانستان سب سے اہم موضوع ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے، افغانستان 40 سال کی جنگی صورت حال کے بعد استحکام کی طرف بڑھے گا۔عمران خان نے کہا کہ افغانستان غلط سمت گیا تو افراتفری، انسانی بحران، پناہ گزینوں کے بڑیمسائل پیدا ہوسکتے ہیں، افغانستان میں افراتفری اور انسانی بحران جیسا مسئلہ

پیدا ہونے سے سارے ہمسائے متاثر ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے نکتہ نظر سے افغان سرزمین سے دہشتگردی کا بھی خطرہ ہے، پہلے سے ہی تین دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کروارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت ایک مشترکہ حکومت ہے۔عمران خان نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کے خلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں، طالبان نے گزشتہ 20 سال میں بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ تبدیل ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…