جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ملکی معیشت اس حد تک گر گئی کہ حکومت مختلف اداروں کو آئی ایم ایف کے ساتھ گروی رکھ رہی ہیں، مولانا فضل الرحمان

datetime 13  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور(آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ طاقت کے زور پر دنیا پر قبضہ کرنے والوں کو 20 سال کے بعد بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔امریکہ نے پندرہ ہزار کلو میٹر فاصلہ طے کر کے 53ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کر دیا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو خواتین کے حقوق کی فکر نہیں کرنی چاہیئے۔اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں

دوسرے مذاہب میں اس کی مثال نہیں تھی۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعیت علماء اسلام کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی نعیمہ کشور کی رہائش گاہ پر کارکنوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کیا۔اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا محمد قاسم،ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا امانت شاہ حقانی،سیکرٹری اطلاعات مولانا قیصر الدین ،حاجی دوست محمد درویش،مولانا تاج الامین جبل اور دیگر بھی موجود تھے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پاکستان کو طالبان کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کر نا چاہیئے۔طالبان خواتین کے خلاف نہیں ہے۔خواتین کو پردے میں رہ کر تعلیم حاصل کرنا چاہیئے۔افغانستان کے شہریوں کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے طالبان حکومت بھرپور کوششیں کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے نظام تعلیم کو تباہ کر دیا ہے۔طلباء سے بھاری فیسیں لی جارہی ہے جبکہ سکولز بند ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک کی داخلی اور خارجی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے اور پاکستان کے دوست ممالک بھی پاکستان سے ناراض ہے۔انہوں نے کہاکہ ملکی معیشت اس حد تک گر گئی ہے کہ اب حکومت مختلف اداروں کو آئی ایم ایف کے ساتھ گروی رکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نیب اور دیگر احتساب اداروں کے نام پر اپوزیشن کو ناکام بنانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہے۔اپوزیشن کے آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ۔ حکومت جس زور کے ساتھ اپوزیشن کے آواز کو دبائے گی اسی زور کے ساتھ وہ دوبارہ آئے گی۔انہوں نے کہاکہ بی آر ٹی اورمالم جبہ جیسے کیسز کوبند کر کے حکومت کو فری ہینڈ دے دیا گیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…