جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

خوردنی تیل، گھی کی قیمتوں میں کمی نہیں کر سکتے ٗ مینوفیکچررز کا حکومت کو صاف انکار

datetime 13  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان وناسپتی گھی اینڈ آئل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی مطالبے کو’تکنیکی اور ریگولیٹری نگرانی کی کمی کی بنیاد پر مسترد کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پی وی ایم اے کی جانب سے وزارت صنعت و خزانہ کو ارسال کیے گئے مراسلے میں آگاہ کیا گیا کہ گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں کی

جا سکتی جس کی بنیادی وجہ پام آئل کی بلند قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ ہے تاہم پی وی ایم اے نے حکومت کو 22ـ2021 کے بجٹ میں گھی اور تیل پر عائد نئے ٹیکسوں کو کم کرنے اور خوردہ فروشوں (ریٹیلرز) پر ریگولیٹری اتھارٹی نافذ کرنے کی تجویز دی۔بین الاقوامی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتیں ایک ہزار 225 فی ٹن ڈالر تھی، اس قیمت میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 50 ڈالر اضافہ ہوا۔پی وی ایم اے کے چیئرمین شیخ عبدالوحید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ تقریباً 40 ڈالر فی ٹن فریٹ چارجز وغیرہ کے طور پر لیا گیا ،پاکستانی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں کم ہوکر 168 روپے رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں گھی اور تیل پر عائد اضافی ڈیوٹیاں واپس لینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدے کو ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔22ـ2021 کے بجٹ میں 3 فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا گیا تھا جس میں غیر رجسٹرڈ خریداروں بشمول تھوک فروشوں (ہول سیلرز) اور خوردہ فروشوں کو گھی اور کوکنگ آئل کی فروخت

پر 0.1 فیصد اور 0.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کے ساتھ ان پٹ سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ 90 فیصد پر بھی عائد کیا گیا تھا۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ ماہ پی وی ایم اے کو ہدایت کی تھی کہ برانڈڈ اور غیر برانڈڈ گھی/کوکنگ آئل کی قیمتیں تقریباً 270 سے 300 روپے فی کلو تک کم کی جائیں۔پی وی ایم اے کے مطابق پاکستان میں گھی اور تیل کی اوسط ماہانہ کھپت تقریباً 4 لاکھ ٹن ہے اور بقیہ طلب مقامی طور پر پیدا ہونے والے تیل کے بیجوں اور غیر منظم شعبے سے پوری کی جاتی ہے۔علاوہ ازیں بین الاقوامی مارکیٹ میں پام آئل اور پام اویلین کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

موضوعات:



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…