اسلام آباد(آن لائن)آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد انتظامیہ پر مالی سال2020ـ21میں مجموعی طور پر 1ارب2کروڑ 26لاکھ روپے کی مالی بد عنوانیوں کے ا عتراضات اٹھائے ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال2020ـ21کی آڈٹ رپورٹ میں این ٹی یو انتظامیہ پر1کروڑ 35لاکھ کے سٹوڈنٹ فنڈ کو تنخواہوں کی ادائیگیوں
میں صرف کرنے،بغیر پی سی کی تیاری کے فارن فیکلٹی ہاسٹل کے نام پر 4کروڑ40لاکھ کے استعمال،جبکہ کراچی میں موجود دو سب کیمپسز جن کی تیاری پر کروڑوں پر صرف کیے جاچکے ہیں کی اراضی تاحال جامعہ کے نام منتقل نہ کروانے کی مد میں ہونے والے ممکنہ 1ارب 16کروڑ کے اثاثہ جات سے بے دخلی جیسے نقصانات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔آڈ ٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جامعہ انتظامیہ نے ڈائریکٹ ڈونیشن،غیر ملکی امداد اور انڈونمنٹ فنڈ کی مد میںاکھٹی ہونیوالی رقم سے خلاف ضابطہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگیاں کیں ،حالانکہ مذکورہ فنڈ صرف سٹوڈنٹس کی فلاح یا غیر نصابی سرگرمیوں پر خرچ کیا جانا تھا۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے جامعہ انتظامیہ پر بغیر پی سی ون کی تیاری و منظوری کے فارن فیکلٹی ہاسٹل کے نام پر خرچ کئے جانے والے 4کروڑ 40لاکھ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ انتظامیہ نے نہ صرف غیر قانونی طور پر4کروڑ 40لاکھ روپے مالیت سے زائد کاٹھیکہ عمر
انجینئرزاینڈ کنٹریکٹر کو ایوارڈ کیا بلکہ وقت مقررہ تک کام مکمل نہ کرنے کے باوجود نہ صرف پوری ادائیگی کر دی بلکہ لیکیوڈیٹیڈ ڈیمجز لینے کی بجائے الٹاٹھیکیدار کو بغیر مجاز اتھارٹی کے اجازت نامے کی اضافی کام کے عوض40لاکھ روپے کی مزید ادائیگیاں بھی کیں۔آڈیٹر جنرل کے ایک اور پیرے میں بتایا گیا ہے کہ پلاسٹک ٹیکنالوجی سنٹر
کراچی اور سینتھیٹک فائبر ڈیویلپمنٹ اینڈ ایپلیکیشن سنٹر کراچی کو جامعہ کے سب کیمپسز کا درجہ ملنے کے بعد جامعہ انتظامیہ نے مذکورہ سب کیمپسز کی تزئین و آرائش پر کروڑوں خرچ کئے مگر تاحال مذکورہ اراضی جامعہ کے نام منتقل نہ ہو سکی ہے۔مذکورہ اراضی کی منتقلی میں قانونی پیچیدگیاں سامنے آنے کے باوجود تاحال جامعہ انتظامیہ نے اس
سنگین نوعیت کا احساس نہیں کیا جس کے سبب جامعہ کو اربوں روپے مالیت کے مذکورہ دونوں اثاثہ جات سے عدالت کے ایک حکم سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔آڈٹ حکام نے مذکورہ تمام معاملوں میں تحقیقات مکمل کر کے نقصان کاسبب بننے والے افراد سے وصولیوں کی سفارش بھی کی ہے۔