جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

جب نہانا کفر سمجھا جاتا تھا

datetime 18  جولائی  2021 |

یورپ میں نہانا کفر سمجھا جاتا تھا،یورپ کے لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی! روس کے بادشاہ قیصر کی جانب سے فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم کے پاس بھیجے گئے نمائندے نے کہا کہ ” فرانس کے بادشاہ کی بدبو کسی بھی درندے کی بدبو سے زیادہ متعفن ہے”، اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام” مونٹیاسبام” تھا جو بادشاہ کی بدبو سے بچنے کے لیے اپنے اوپر خوشبو ڈالتی تھی۔

دوسرطرف خود روسی بھی صفائی پسند نہیں تھے، مشہور سیاح ابن فضلان نے لکھا ہے کہ ” روس کا بادشاہ قیصر پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے ہی کھڑےکھڑے شاہی محل کی دیوار پر پیشاب کرتا ہے ، چھو ٹے اور بڑے پیشاب دونوں کے بعد کوئی استنجا نہیں کرتا، ایسی گندی مخلوق میں نہیں دیکھی”۔ اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والی ملکہ” ایزا بیلا” ساری زندگی میں صرف دو بار نہائی،اس نے مسلمانوں کے بنائے ہوئے تمام حماموں کو گرادیا۔ اسپین کے بادشاہ “فلیپ دوم” نے اپنے ملک میں نہانے پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی، اس کی بیٹی ایزا بیل دوئم نے قسم کھائی تھی کہ شہروں کا محاصرہ ختم ہونے تک داخلی لباس بھی تبدیل نہیں کرے گی اور محاصرہ ختم ہونے میں تین سال لگے،اسی سبب سے وہ مرگئی۔ یہ ان کی عوام کے نہیں بادشاہوں اور حکمرانوں کے واقعات ہیں جو تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں،جب ہمارے سیاح کتابیں لکھ رہے تھے،جب ہمارے سائنسدان نظام شمسی پر تحقیق کر رہے تھے ان کے بادشاہ نہانے کو گناہ قرار دے کر لوگوں کو قتل کرتے تھے، پھر ہمیں ان کے بادشاہوں جیسے حکمران ملے توحال دیکھیں!!جب لندن اور پیرس کی آبادیاں 30 اور 40 ہزار تھیں اس وقت اسلامی شہروں کی آبادیاں ایک ایک ملین ہوا کرتی تھیں ،فرنچ پرفیوم بہت مشہور ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ پرفیوم لگائے بغیر پیرس میں گھومنا ممکن نہیں تھا۔ریڈ ایڈین یورپیوں سے لڑتے ہوئے گلاب کے پھول اپنی نتھںوں میں ٹھونس دیتے تھے کیوں یورپیوں کی تلوار سے زیادہ ان کی بدبو تیز ہوتی تھی!! فرانسیسی مورخ” دریبار” کہتا ہے کہ :” ہم یورپ والے مسلمانوں کے مقروض ہیں، انہوں نے ہی ہمیں صفائی اور جینے کا ڈھنگ سکھا یا، انہوں نے ہی ہمیں نہانا اور لباس تبدیل کرنا سکھا یا، جب ہم ننگے دھڑنگے ہوتے تھے اس وقت وہ اپنے کپڑوں کو زمرد،یاقوت اور مرجان سے سجاتے تھے،جب یورپی کلیسا نہانے کو کفر قرار دے رہا تھا اس وقت صرف قرطبہ شہر میں 300 عوامی حمام تھے”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…